نوجوت سنگھ سدھو 10 ماہ بعد پٹیالہ جیل سے رہا

,

   

چندی گڑھ: کانگریس قائدنوجوت سنگھ سندھو کو 10 ماہ کی تکمیل پر پٹیالہ جیل سے آج رہا کردیا گیا۔ نوجوت سنگھ کے وکیل ایچ پی ایس ورما کا کہنا ہے کہ پنجاب جیل کے قوانین کے مطابق اچھے سلوک کے مجرم کو عام معافی کا حق ہے، اسی لیے انہیں ایک سال مکمل ہونے سے قبل 48 دن پہلے ہفتہ کو شام 5-50 بجے رہا کردیا گیا ۔جیل کے باہر سدھو کے حامیوں نے ڈھول اور تاشے کے ساتھ ان کا استقبال کیا ۔ وکیل کے مطابق سدھو کو ایک ماہ میں چار چھٹیاں لینے کی اجازت تھی جو انہوں نے نہیں لی، اسی وجہ سے وہ چھٹیاں ان کی جیل کی مدت میں سے کاٹ لی گئیں۔ واضح رہے کہ سپریم کورٹ نے گزشتہ برس سدھو کو 34 برس پرانے روڈ ایکسیڈینٹ کے کیس میں ایک برس جیل کی سزا سنائی تھی اس حادثے میں ایک شخص ہلاک ہوا تھا۔تاہم گزشتہ ہفتے نوجوت سنگھ سدھو کی اہلیہ نوجوت کور کے کینسر میں مبتلا ہونے کا انکشاف ہوا تھا، سدھو کی اہلیہ میں دوسرے اسٹیج کے کینسر کی تشخیص ہوئی ہے۔جیل سے باہر آتے ہی سدھو نے کہا کہ ملک میں جمہوریت نام کی کوئی چیز نہیں ہے۔انہوں نے مرکزی حکومت کو آمرانہ حکومت قرار دیا جب کہ پنجاب کے چیف منسٹر کو اخباری چیف منسٹر کہا ۔

میں نے سدھو کو سبق سکھانے کیلئے خدا سے موت طلب کی، اہلیہ
امرتسر : سابق کرکٹر اور کانگریس کے قائد نوجوت سنگھ سدھو کی پٹیالہ جیل سے رہائی سے ایک روز قبل ان کی اہلیہ ڈاکٹر نوجوت کور سدھو نے جذباتی ٹوئٹ شیئر کر دیا۔ مائیکرو بلاگنگ سائٹ ٹوئٹر پر ٹوئٹ کرتے ہوئے نوجوت کور سدھو نے لکھا کہ لگن سچی ہوتو جو مانگو مل جاتا ہے، پھر چاہے آپ ہوش و حواس میں ہوں یا حواس باختہ۔ میں نے سدھو کو سبق سکھانے کے لئے خدا سے موت طلب کی۔ نوجوت کی پنجاب سے محبت نے اسے ہر اپنے پیاروں سے دور کردیا تھا اور اب خدا کے اس کرم کا انتظار کر رہی ہوں۔ انہوں نے ایک اور ٹوئٹ کرتے ہوئے لکھا کہ ’خدا کہتا ہے کہ میں تمہیں وہی دوں گا جو تم مانگو گے، لیکن میری مرضی کے خلاف اور وقت سے پہلے کسی کو کچھ نہیں ملے گا۔ ہر انسان کی تقدیر منزل اور سفر الگ ہے اور ہمیں کوئی حق نہیں ہے سوال کرنے کا۔ اگر کسی کو درست ہونے کی ضرورت ہے تو وہ ہمیں ہے۔ یہ اْس کی دنیا ہے اور اسی کے قوانین ہیں۔ یاد رہے کہ نوجوت سنگھ سدھو کی اہلیہ نوجوت کور سدھو اسٹیج 2 ’انویسو کینسر‘ سے زندگی اور موت کی جنگ لڑ رہی ہیں اور اپنے شوہر کی رہائی کی منتظر ہیں۔ خیال رہے کہ 59 سالہ سابق کرکٹر اور سیاستدان نوجوت سنگھ سدھو کو 34 سال پرانے کیس میں سپریم کورٹ سے سزا کے بعد مئی 2022 میں پٹیالہ کے سینٹرل جیل بھیج دیا گیا تھا، انہیں 1988 کے ’روڈ ریج ڈیتھ‘ کے مقدمے میں ایک سال قید کی سزا سنائی گئی تھی۔