نئی دہلی: آل انڈیا ملی کونسل نے ہریانہ کے کئی شہروں کے اندر فرقہ وارانہ تشدد پر گہرے غم وغصہ کا اظہار کرتے ہوئے ریاستی حکومت کی مکمل ناکامی پر افسوس ظاہر کیا ہے ۔ آل انڈیا ملی کونسل کے جنرل سکریٹری ڈاکٹر محمد منظور عالم نے کہا ہے کہ جس طرح فرقہ وارانہ تشدد اور شرپسندوں کا ننگا ناچ ہوا ہے ، وہ انتہائی قابل مذمت ہے ۔ انھوں نے کہا کہ حالات اب بھی نارمل نہیں ہیں، کرفیو لگا ہوا ہے اور انٹرنیٹ پر پابندی ہے ۔ ریاستی حکومت ہزار دعوے کرے لیکن صورت حال کشیدہ ہے ۔ سوہنا، فرید آباد، منیسر، پلول اور بادشاہ پور وگروگرام میں حالات قطعی اطمینان بخش نہیں ہیں۔ گاڑیوں سے سفر کرنے والوں کے درمیان بھی شدید خوف وہراس کا ماحول ہے ۔ملی کونسل نے پانچ سے زائد افراد کی جانیں تلف ہونے ، تجارتی سرگرمیاں ٹھپ ہونے ، آتش زنی کے واقعات نیز بڑی تعداد میں لوگوں کے تشدد میں زخمی ہونے کی اطلاعات پر سخت غم وغصہ کا اظہار کرتے ہوئے ریاستی حکومت کی ناکامی پر اپنی شدید برہمی کا اظہار کیا ہے اور اصل ملوث مجرمین کو گرفتار کرکے ان کے خلاف قانونی کاروائی کرنے اور انھیں کیفر کردار تک پہنچانے کا مطالبہ کیا ہے ۔جنرل سکریٹری ملی کونسل نے نوح، میوات اور اس کی زد میں آئے تمام مقامات پر سیکورٹی کے سخت انتظامات کرنے پر حکومت کو متوجہ کیا ہے ۔ جب نوح اور اس کے مضافات میں جلوس کو لے کر طرح طرح کی افواہیں پھیل رہی تھیں اور شرپسند عناصر قبل سے ہی اقلیتی فرقہ کو وارننگ دے رہے تھے ، تو اُس وقت انتظامیہ کو اس بابت بہت مستعد، چوکنا رہنا اور نظم وضبط کو قائم رکھنے کی بہرصورت کوشش کرنی چاہیے تھی، تاہم ایسا سمجھا جاتا ہے کہ پولس اور سیکورٹی کے لوگ خاموش تماشائی بنے ہوئے تھے جن کی وجہ سے شرپسند عناصر نے اس کا فائدہ اٹھاتے ہوئے حالات کو قتل وخون میں بدلنے کی کوشش کی، جس کی جس قدر بھی مذمت کی جائے وہ کم ہے ۔ ملی کونسل نے ریاستی حکومت سے سبھی مہلوکین، مجروحین ومتاثرین فسادات کے ساتھ انسانی ہمدردی کی بنیاد پر انھیں معقول معاوضے دینے کا مطالبہ کیا ہے ۔