نوح فسادات میں گروکل کو بچانے والے سرپنچ شوکت علی کو امن ایوارڈ

   

نوح : نگینہ علاقہ میں پڑنے والے بھادس کے سرپنچ کو فیروز پور جھرکہ کے سب ڈویڑنل افسر ڈاکٹر چنار چہل کے ہاتھوں فرقہ وارانہ ہم آہنگی قائم کرنے اور گروکل کی حفاظت کے لیے بہترین شہری ایوارڈ سے نوازا گیا ہے۔ نوح تشدد کے دوران بھادس گاؤں میں فسادیوں کے ہجوم سے لڑ کر گروکل کی حفاظت کرنے کے لیے ملک بھر میں سراہے جانے والے بھادس گاؤں کے سرپنچ شوکت علی کو انتظامیہ اور مقامی ہندو برادری نے یوم آزادی کے موقع پر اعزاز سے نوازا ہے۔ شوکت علی تشدد کے دن گاؤں والوں کے ساتھ لاٹھیاں لے کر فسادیوں کے سامنے کھڑے ہو گئے تھے۔ اس گاؤں کی 95 فیصد آبادی مسلمانوں کی ہے۔ بتایا جا رہا ہے کہ فسادیوں نے اپنے چہروں پر کپڑا باندھ رکھا تھا اور ان کی موٹر سائیکل کی نمبر پلیٹ اتاری ہوئی تھی۔ 400۔500 فسادیوں کے اس ہجوم نے برے ارادے سے گروکل پر حملہ کیا، تو شوکت علی اپنے ساتھیوں کے ساتھ ان سے بھڑ گئے، مقامی مسلمانوں کو گروکل کے اطراف سے لڑتے دیکھ کر فسادی واپس چلے گئے۔ چند گھنٹوں بعد فسادیوں نے پھر گروکل پر حملہ کیا لیکن سرپنچ شوکت علی نے دوبارہ انہیں پسپا کر دیا۔ حالات کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے شوکت علی مقامی دیہاتیوں کو ساتھ لے کر 24 گھنٹے گروکل میں رہے۔