نوح فسادکا کلیدی ملزم بٹو بجرنگی فریدآباد سے گرفتار

,

   

بٹو بجرنگی پر سرکاری کام میں رکاوٹ ڈالنے ، ہتھیار چھیننے اور پولیس کے ساتھ بدتمیزی کا الزام

فرید آباد: بٹو بجرنگی کو نوح تشدد سے متعلق ایک معاملے میں منگل کو فرید ا?باد میں ان کے گھر سے گرفتار کرلیا گیا۔بٹو بجرنگی پر سرکاری کام میں رکاوٹ ڈالنے، ہتھیار چھیننے اور پولیس کے ساتھ بدتمیزی کرنے کا الزام ہے۔ نوح میں برج منڈل یاترا سے پہلے بٹو بجرنگی نے سوشل میڈیا پر کئی اشتعال انگیز ویڈیوز ڈالی تھیں۔ اس معاملے میں اس کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا تھا۔ تاہم اسے ضمانت پر رہا کر دیا گیا۔ تب سے سوشل میڈیا پر بٹو کی گرفتاری کا مطالبہ کیا جا رہا تھا۔ پولیس ذرائع کے مطابق بٹو کو نوح ضلع کے تودو تھانے کے کرائم انوسٹی گیشن ایجنسی (سی آئی اے) نے گرفتار کیا تھا۔نوح پولیس کے ترجمان کرشنا کمار نے بتایا کہ 31 جولائی کو نوح میں تشدد کے بعد صدر پولیس اسٹیشن میں شکایت پر ا?ئی پی سی کی دفعہ 148، 149، 332، 353، 186، 395، 397، 506 اور آرمس ایکٹ کے تحت مقدمہ درج کیا گیا تھا۔ جس کے بعد پولیس ٹیموں نے تشدد سے متعلق ویڈیو کی بھی چھان بین کی۔اسی ایف آئی آر کی بنیاد پر بٹو کو گرفتارکرلیا گیا۔نوح میوات تشدد سے عین قبل بٹو بجرنگی کی ویڈیو وائرل ہوئی تھی، جس میں اس شخص نے مسلمانو ںکے خلاف اہانت اور اشتعال انگیز نعرے لگائے تھے۔ یہ ویڈیو31 جولائی سے قبل سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی تھی۔ جس میں بٹو نے کہا کہ انہیں مکمل لوکیشن دو، مجھے کہاں آنا ہے ، میں وہیں آؤں گا۔ ورنہ بعد میں کہو گے، یہ نہیں بتایا کہ ہم آئے اور نہیں ملے۔ اسی لیے ہم مکمل لوکیشن دے رہے ہیں۔ ویڈیو کے دوران بٹو بجرنگی اپنے حامیوں کو بھی دکھا ر ہا تھا۔ بٹو بجرنگی کا کہنا ہے کہ وہ فی الحال فرید آباد کے پالی میں ہیں۔ خیال رہے کہ بٹو کا یہ ویڈیو تشدد کے دن 31 جولائی کی صبح کا ہے۔ہریانہ کے نوح میں تشدد کے سلسلے میں پولیس کے ذریعہ گرفتار کیے گئے بٹو بجرنگی کو بجرنگ دل کا کارکن بتانے کی خبروں کو مسترد کرتے ہوئے وشو ہندو پریشد نے دعویٰ کیا ہے کہ بٹو بجرنگی کا کبھی بجرنگ دل سے کوئی تعلق نہیں رہا۔ یہاں تک کہ وی ایچ پی اس کے ذریعہ مبینہ طور پر جاری کردہ ویڈیو کے مواد کو بھی صحیح نہیں مانتی۔وشوا ہندو پریشد نے اپنے آفیشل ایکس اکاؤنٹ (پہلے ٹوئٹر) پر اپنی تنظیم بجرنگ دل کی جانب سے بٹو بجرنگی کے حوالے سے موقف واضح کرتے ہوئے کہاکہ راج کمار عرف بٹو بجرنگی، جسے بجرنگ دل کا کارکن بتایا جا رہا ہے، اس کا بجرنگ دل سے کبھی کوئی تعلق نہیں رہا۔وی ایچ پی نے مزید لکھا کہ وشوا ہندو پریشد اس کے (بٹو بجرنگی) کے ذریعہ جاری کردہ ویڈیو کے مواد کو مناسب نہیں سمجھتی ہے۔