افواہ پھیلانے والوں کے خلاف سخت کارروائی کا انتباہ،بھاری پولیس تعینات
نوح: ہریانہ کے نوح میں پیر 28 اگست کی برج منڈل یاترا کو پولیس نے اجازت نہیں دی اورافواہ پھیلانے والوںکے خلاف سخت کارروائی کا انتباہ دیا گیا ہے ۔ہریانہ کے نوح میں 31 جولائی کو ہوئے تشدد کے بعد پھر سے برج منڈل کی جل ابھیشیک یاترا نکالے جانے کی تیاری ہے۔ برج منڈل کی 28 اگست کو مجوزہ شوبھایاترا کو منظوری نہیں دی گئی ہے۔ پھر بھی کچھ لوگ افواہ پھیلارہے ہیں کہ یاترا کی منظوری دید ی گئی ہے۔ فی الحال نوح میں کرفیو اور دفعہ 144 نافذ کی ہوئی ہے۔ پولیس بھی افواہ پھیلانیو الی اس طرح کی پوسٹوں کو لے کر الرٹ پر ہے۔نوح میں برج منڈل یاترا کے دوبارہ شروع ہونے کے حوالے سے سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی پوسٹ پر بجرنگ دل، پلول لکھا ہے۔ لکھا گیا ہے کہ بجرنگ دل، ہریانہ، پلول کے بینر تلے برج منڈل (میوات) جل ابھیشیک یاترا 28 اگست کو صبح 10 بجے نلہڑ نوح کے راستے سنگار پونہنا میں ختم ہوگی۔ اس دوران نلہڑ میں بھگوان کرشن کے قائم کردہ شیو مندر میں جل ابھیشیک کا انعقاد کیا جائے گا۔ اس میں کئی مندروں کا ذکر کیا گیا ہے، جہاں یاترا جائے گی۔ایسی صورتحال میں سائبر پولیس جھوٹی خبریں پھیلانے، افواہیں پھیلانے، اشتعال انگیز بیانات دے کر مذہبی جذبات کو ٹھیس پہنچانے، امن و امان کو چیلنج کرنے اور امن کی خلاف ورزی سے متعلق خبریں، پوسٹس یا پیغامات پوسٹ کرنے اور آگے بھیجنے والوں کے خلاف نگرانی کر رہی ہے۔ سماج دشمن عناصر کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے گی۔نوح کے ایس پی نریندر بجارنیا نے کہا کہ 1900 جوانوں کے علاوہ پولیس فورس کی 26 کمپنیاں ضلع میں امن و امان برقرار رکھنے کے لیے تعینات کی گئی ہیں۔ ضلع میں پولیس فورس کی طرف سے مسلسل فلیگ مارچ نکالے جا رہے ہیں اور لوگوں سے امن و سکون برقرار رکھنے کی اپیل کی جا رہی ہے۔ہریانہ کے نوح میں پیر کو ہندو تنظیموں کی جانب سے ایک مرتبہ پھر شوبھا یاترا نکالنے کی کال دی گئی ہے جس کے پیش نظر عہدیداروں نے اس دن تعلیمی اداروں اور بینکوں کو بند کرنے کا حکم دیا ہے۔ عہدیداروں نے موبائل انٹرنیٹ اور بلک ایس ایس ایم خدمات کو معطل کردیا ہے جبکہ فرقہ وارانہ طور سے حساس اضلاع میں خصوصی امتناع عائد کردی گئی ہے۔پولیس کی جانب سے حساس مقامات پر بھاری تعداد میں تعیناتی کے علاوہ ٹول پلازہ اور دیگر مقامات پر مشتبہ افراد اور گاڑیوں کی تلاشی لی جارہی ہے۔ انٹرنیٹ پر بھی 29 اگست تک پابندی عائد کردی گئی ہے۔ ہندو تنظیمیں یاترا نکالنے پر بضد ہیں۔ پولیس نے اگرچہ سخت انتظامات کئے ہیں پھر بھی مسلمانوں کو گھروں سے باہر نہ نکلنے کی ہدایت دی گئی ہے۔