تلنگانہ ، کیرالا ، مہاراشٹرا ، دہلی اور اے پی کے علاوہ بیرون ملک جائیدادیں اور بینک اکاونٹس کیخلاف ای ڈی کارروائی
نئی دہلی / حیدرآباد /16 اگست ( پی ٹی آئی ) انفورسمنٹ ڈائرکٹوریٹ نے آج کہا کہ اُس نے تلنگانہ میں قائم ملٹی لیول مارکیٹنگ گروپ کے رول والے مبینہ پونزی ( فرضی اسکیم ) اسکام میں اسکی غیر قانونی رقمی لین دین کے سلسلے میں تقریباً 300 کروڑ روپئے مالیت کے اثاثہ جات قرق کرلئے ہیں ۔ ان جائیدادوں کا تعلق پروموٹر نوشیرہ شیخ سے ہے جسے اس کیس میں ای ڈی نے گرفتار کر رکھا ہے ۔ علاوہ ازیں کئی ریاستوں میں پھیلی ہوئی جائیدادیں ہیرا گروپ آف کمپنیز اور دیگر کی بھی ہیں ۔ ایجنسی نے قانون انسداد ناجائز رقمی لین دین کے تحت عبوری آرڈر جاری کیا ہے جس میں قرق شدہ اثاثہ جات کی قدر 299.99 کروڑ روپئے بتائی گئی ہے ۔ بیان میں انفورسمنٹ ڈائرکٹوریٹ نے کہا کہ ان اثاثوں میں تلنگانہ ، کیرالا ، مہاراشٹرا، دہلی اور آندھرا پردیش میں واقع 96 غیر منقولہ جائیدادیں زرعی اراضیوں کی شکل میں واقع ہیں جن کی مالیت 277.29 کروڑ روپئے بتائی گئی اس کے علاوہ کمرشیل پلاٹس ، رہائشی عمارتوں ، کمرشیل کامپلکس اور بینک کھاتوں میں جمع رقم کی شکل میں بھی 22.69 کروڑ روپئے مالیتی اثاثہ قرق کئے گئے ہیں ۔ یہ کیس دھوکہ بازی سے رقمی لین دین کی اسکیم سے متعلق ہے جسے عام فہم انداز میں پونزی اسکیم یا چٹ فنڈ کہا جاتا ہے ۔ مبینہ طور پر اس کی شروعات حیدرآباد میں ہیرا گروپ نے کی اور ای ڈی نے لاکھوں سرمایہ کاروں سے اُنچے نفع کا وعدہ کرتے ہوئے غیر قانونی طور پر ڈپازٹس کی وصولی کے الزامات پر تلنگانہ پولیس کی جانب سے کئی ایف آئی آر درج کئے جانے کے بعد منی لانڈرنگ کا فوجداری مقدمہ درج کیا تھا ۔ وفاقی تحقیقاتی ادارہ نے کہا کہ ہیرا گروپ نے تقریباً 5600 کروڑ روپئے کی رقم جمع کرلی جو 1,72,000 سرمایہ کاروں سے غیر مجاز طور پر بہ شکل ڈپازٹ وصول کئے گئے ۔ ان سرمایہ کا تعلق ملک بھر کے مختلف مقامات سے ہے ۔ ہیرا گروپ نے مارکیٹنگ اگزیکیٹیوں کا نیٹ ورک بنایا اور ڈائرکٹ سیلنگ ایجنٹس بھی مقرر کئے جو جھوٹا کرتے کہ ماہانہ 3 فیصد یا سالانہ 36 فیصد کی اونچی شرح پر نفع کی رقم دی جائے گی ۔ نوشیرہ شیخ نے کئی اسکیمات شروع کئے اور لوگوں کو جھانسہ دینے کیلئے ان کی خوب تشہیر کی گئی ۔
اس نے ہیرا گروپ کے تحت 24 فرمس / ادارے شروع کئے اور 182 بینک اکاونٹس ملک کے مختلف حصوں میں واقع مختلف بینکوں میں کھولے ۔ یہ تمام دو درجن کمپنیوں کے نام پر کھولے گئے ۔ ای ڈی نے مزید کہا کہ 10 بینک کھاتے بیرونی ملکوں میں بھی کھولے گئے جیسے یو اے ای ، سعودی عرب تاکہ ڈپازٹس وصول کئے جاسکے حالانکہ نوشیرہ شیخ کے پاس کوئی کارکرد پرمٹ نہیں تھا ۔ اسے بینکنگ ریگولیشن ایکٹ ، کمپنیز ایکٹ ، آر بی ایکٹ یا کوئی بھی دیگر سرکاری ایجنسی جیسے سیبی وغیرہ کی طرف سے اجازت حاصل نہیں تھی کہ اس طرح یہ ڈپازٹس وصول کرے ۔ ای ڈی کا الزام ہے کہ نوشیرہ نے گولڈ ، فوڈ اور ٹیکسٹائل بزنس محض یہ تاثر دینے کیلئے شروع کیا کہ وہ واجبی نفع کما رہی ہے ۔ لیکن حقیقت میں نئے ممبرس کو کی گئی ادائیگیاں محض اسی کیش سے کی جاتی رہیں جو نئے ممبرس / سرمایوں سے جمع ہوتا رہا ۔ ای ڈی کے بیان میں بتایا گیا کہ سونا / پارچہ جات اور غذائی اشیاء میں اس کے بزنس کا حجم بہت معمولی ہوا کرتا تھا اور کسی بھی طرح یہ دعوی نہیں کیا جاسکتا کہ اسے قابل لحاظ نفع حاصل ہو رہا ہے ۔ نوشیرہ نے اپنے فیملی ممبرس اور قریبی معاونین کو ساتھ لیکر ڈپازٹرس کی رقم کو اپنے پرسنل اکاونٹس میں منتقل کیا اور اس کے ذریعہ منقولہ اور غیر منقولہ اثاثہ جات اکھٹا کئے تاکہ عیش کیا جاسکے ۔ اس طرح منتقل کئے گئے فنڈس مختلف فرضی کمپنیوں میں مشغول بتائے گئے اور بے نامی اثاثے بھی بنائے گئے ۔ ان تمام سرگرمیوں کا واحد مقصد بھولے بھالے لوگوں کو لاکھوں کروڑوں کا دھوکہ دینا اور اس جرم کے ذریعہ شخصی فائدے حاصل کرنا رہا ۔
