نومبر بی جے پی کیلئے مبارک اور ٹی آر ایس کیلئے منحوس

   

دوباک کے بعد حضورآباد میں نومبر میں شکست، ٹی آر ایس سے نکلنے والے دونوں قائدین کامیاب ، وجئے گرجنا کے نام پر تجسس
حیدرآباد۔/3نومبر، ( سیاست نیوز) حضورآباد کے نتیجہ کے بعد ٹی آر ایس اور بی جے پی اچھے اور برے دنوں کے بارے میں مباحث میں مصروف ہوچکے ہیں۔ نومبر کا مہینہ بی جے پی کیلئے مبارک ثابت ہوا جبکہ نومبر ٹی آر ایس کیلئے منحوس تصور کیا جارہا ہے۔ بی جے پی حلقوں کا کہنا ہے کہ نومبر میں پارٹی کیلئے کامیابیاں حاصل ہورہی ہیں جبکہ ٹی آر ایس قائدین دوباک کی شکست کے پس منظر میں نومبر کو پارٹی کیلئے منحوس تصور کررہے ہیں۔ حضورآباد میں رائے دہی اگرچہ 30 اکٹوبر کو ہوئی تھی لیکن نتیجہ کا اعلان 2 نومبر کو ہوا۔ لہذا بی جے پی نومبر کا شمار کرتے ہوئے اسے اپنے لئے مبارک تصور کررہی ہے۔ دوباک ضمنی چناؤ کے نتیجہ کا اعلان 10 نومبر 2020 کو کیا گیا تھا جس میں بی جے پی امیدوار رگھونندن راؤ کو سخت مقابلہ میں ٹی آر ایس پر کامیابی حاصل ہوئی تھی۔ یہ دونوں نشستیں بی جے پی نے ٹی آر ایس سے چھین لی ہیں۔ ٹی آر ایس کے حلقوں میں اس بات کو لیکر بحث جاری ہے کہ 2001 میں پارٹی کے قیام کے بعد سے ہی نومبر میں بہتر صورتحال نہیں رہی۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ دونوں اسمبلی حلقوں میں ٹی آر ایس کو شکست دینے والے قائدین سابق میں چیف منسٹر کے سی آر سے کافی قریب رہ چکے ہیں۔ دوباک کے رکن اسمبلی رگھونندن راؤ 2001 میں ٹی آر ایس کے قیام سے پارٹی سے وابستہ رہے اور وہ کے سی آر کے کافی قریب تھے اور انہیں میدک ضلع کا صدر بنایا گیا تھا۔ بعد میں انہوں نے 2013 میں استعفی دے دیا اور 2014 میں بی جے پی میں شمولیت اختیار کرلی۔ اسی طرح ایٹالہ راجندر بھی تلنگانہ تحریک میں کے سی آر کے کافی قریب رہے اور انہوں نے 6 مرتبہ ٹی آر ایس کے ٹکٹ پر حضورآباد سے کامیابی حاصل کی اور کے سی آر کی کابینہ میں دو مرتبہ وزیر رہے۔ بتایا جاتا ہے کہ مارچ 2012 میں وائی سرینواس ریڈی نے بی جے پی کے ٹکٹ پر محبوب نگر اسمبلی حلقہ کے ضمنی چناؤ میں کامیابی حاصل کی۔ سرینواس ریڈی 2001 سے ٹی آر ایس سے وابستہ رہے اور کے سی آر کے قریب تھے لیکن 2009 میں انہوں نے استعفی دے دیا۔نومبر میں 2 اسمبلی حلقہ جات میں پارٹی کو شکست کے بعد ٹی آر ایس کے حلقوں میں نومبر کو منحوس تصور کیا جارہا ہے۔ اس بحث کے دوران 29 نومبر کو ورنگل میں ٹی آر ایس کی وجئے گرجنا کے انعقاد کے بارے میں بھی مختلف رائے کا اظہار کیا جارہا ہے۔ کیا حضورآباد کی شکست کے باوجود جلسہ کا عنوان ’ وجئے گرجنا ‘ برقرار رہے گا۔ اس بارے میں عوام میں تجسس پایا جاتا ہے۔ وجئے گرجنا کی تاریخ میں چیف منسٹر نے عین وقت پر تبدیلی کردی تھی ، ریاستی وزراء ای دیاکر راؤ اور ستیہ وتی راتھوڑ کو انتظام کی ذمہ داری دی گئی ہے اور مقامی رکن پارلیمنٹ کپٹن لکشمی کانت راؤ ان کی اعانت کررہے ہیں ۔ ر