اسمبلی انتخابات 2018 میں NOTA سے 6 امیدواروں کی کامیابی شکست میں تبدیل
حیرت انگیز طور پر 119 کے منجملہ 70 حلقوں میں پانچویں مقام پر رہا ۔ جملہ 2,24,709 لاکھ ووٹ کا حصول
حیدرآباد ۔ یکم ۔ دسمبر : ( سیاست نیوز ) : اسمبلی انتخابات میں کامیابی کی حکمت عملی تیار کرنے والی سیاسی جماعتوں اور مقابلہ کرنے والے امیدواروں کو الکٹرانک ووٹنگ مشین میں فراہم کئے گئے آپشن نوٹا NOTA سے ڈر و خوف ہونے لگا ہے کیوں کہ گذشتہ انتخابات 2018 میں نوٹا نے تلنگانہ میں تہلکہ مچا دیا تھا ۔ اس نے کامیاب ہونے والے 6 امیدواروں کی قسمت پر پانی پھیر دیا تھا ۔ اس کے علاوہ ریاست کے 70 اسمبلی حلقوں میں امیدواروں کو حاصل ہونے والے ووٹوں میں پانچویں نمبر پر تھا ۔ گذشتہ انتخابات میں نوٹا کی طاقت کو دیکھ کر سیاسی جماعتوں اور قائدین میں تشویش پیدا ہوگئی ہے کیوں کہ چند امیدواروں سے زیادہ نوٹا کو ووٹ حاصل ہوئے تھے ۔ انتخابات میں مقابلہ کرنے والے امیدوار پسند نہ ہو تو نوٹا کو ووٹ دینے کی سہولت فراہم کی گئی ہے ۔ سنٹرل الیکشن کمیشن نے 2009 کے انتخابات میں ہی نوٹا کی تجویز پیش کی تھی تاہم اس وقت مرکزی حکومت نے اس کو منظوری نہیں دی تھی ۔ جس کے بعد سپریم کورٹ میں مفاد عامہ کی ایک درخواست داخل ہوئی تھی ۔ جس کے پیش نظر سپریم کورٹ نے 2013 میں نوٹا کی تجویز پر عمل کرنے کا فیصلہ سنایا تھا ۔ جس کے بعد 2014 کے عام انتخابات کے دوران ملک بھر میں نوٹا آپشن پر عمل آوری ہوئی ۔ 2018 کے تلنگانہ میں منعقد ہونے والے انتخابات میں اسمبلی حلقہ آصف آباد میں کانگریس کے امیدوار اے سکو نے 65,788 ووٹ حاصل کرتے ہوئے کامیابی حاصل کی ۔ ٹی آر ایس موجودہ بی آر ایس کی حریف امیدوار کووا لکشمی کو 65,617 ووٹ حاصل ہوئے اس حلقہ سے کانگریس کے امیدوار نے صرف 171 ووٹوں کے فرق سے کامیابی حاصل کی تاہم اس حلقہ میں نوٹا کو 2,711 ووٹ حاصل ہوئے ۔ اسمبلی حلقہ دھرماپوری میں حکمران جماعت کے امیدوار کے ایشور کو 70,579 ووٹ حاصل ہوئے جب کہ قریبی کانگریس امیدوار اے لکشمن کمار کو 70,138 ووٹ حاصل ہوئے لیکن نتیجہ بی آر ایس پارٹی کے حق میں گیا ۔ کے ایشور نے 441 ووٹوں کی اکثریت سے کامیابی حاصل کی ۔ اس حلقہ میں نوٹا کو 2,597 ووٹ حاصل ہوئے ۔ ووٹوں کی حصولی میں نوٹا کو پانچواں مقام حاصل ہوا ۔ اسمبلی حلقہ ابراہیم پٹنم میں بی آر ایس کے امیدوار منچی ریڈی کشن ریڈی نے صرف 376 ووٹوں کی اکثریت سے کامیابی حاصل کی ۔ انہیں 72,581 ووٹ حاصل ہوئے جب کہ ان کے قریبی حریف بی ایس پی کے امیدوار مال ریڈی رنگاریڈی کو 72,205 ووٹ حاصل ہوئے اس حلقہ میں بھی نوٹا کو 1,145 ووٹ حاصل ہوئے ۔ اسمبلی حلقہ عنبر پیٹ میں بی آر ایس کے امیدوار کالیرو وینکٹیش نے 61,558 ووٹ حاصل کرتے ہوئے کامیابی حاصل کی جب کہ ان کے قریبی حریف بی جے پی کے امیدوار موجودہ مرکزی وزیر تلنگانہ بی جے پی کے صدر جی کشن ریڈی کو 60,542 ووٹ حاصل ہوئے ۔ بی آر ایس کے امیدوار نے صرف 1016 ووٹوں کی اکثریت حاصل کی ۔ اس حلقہ میں بھی نوٹا کو 1462 ووٹ حاصل ہوئے ۔ اسمبلی حلقہ کوداڑ میں بی آر ایس کے امیدوار بی ملیا یادو نے 89,115 ووٹ حاصل کئے جب کہ ان کی قریبی کانگریس کی حریف امیدوار پدماوتی ریڈی کو 88,359 ووٹ حاصل ہوئے صرف 756 ووٹوں کی اکثریت سے بی آر ایس کے امیدوار نے کامیابی حاصل کی ۔ اس حلقہ میں بھی نوٹا کو 1240 ووٹ حاصل ہوئے ۔ اسمبلی حلقہ ویرا سے آزاد امیدوار ایل راملو نے 52,650 ووٹ حاصل کرتے ہوئے کامیابی حاصل کی ۔ ان کے قریبی حریف امیدوار بی مدن لال کو 50,637 ووٹ حاصل ہوئے آزاد امیدوار راملو کو 2013 ووٹوں کی اکثریت حاصل ہوئی جب کہ نوٹا کو 2360 حاصل ہوئے ۔ تلنگانہ کے 119 اسمبلی حلقوں میں نوٹا کہیں بھی آخری مقام پر نہیں رہا ۔ مجموعی طور پر 70 اسمبلی حلقوں میں نوٹا امیدواروں کو حاصل ہونے والے ووٹوں میں پانچویں مقام پر رہا ہے ۔ سال 2018 میں جملہ ووٹوں کی تعداد 2,56,94,443 تھی جس میں 2,04,70,749 ووٹ ڈالے گئے تھے ۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ نوٹا کو 2,24,709 ووٹ حاصل ہوئے تھے گذشتہ اسمبلی انتخابات میں اسمبلی حلقہ وردھنا پیٹ میں نوٹا کو سب سے زیادہ 5842 ووٹ حاصل ہوئے جو یہاں ہوئی مجموعی رائے دہی کا 3.09 فیصد ہے ۔ اسمبلی حلقہ حضور آباد میں ووٹوں کی حصولی میں نوٹا کو تیسرا مقام حاصل ہوا ۔ یہاں اُس وقت ٹی آر ایس کے امیدوار ایٹالہ راجندر کو کامیابی حاصل ہوئی تھی جو اس وقت بی جے پی میں ہے اور ساتھ ہی کانگریس کے امیدوار کوشک ریڈی کو دوسرا مقام حاصل ہوا تھا جو اس وقت بی آر ایس میں ہے ۔ اس کے علاوہ اسمبلی حلقہ کھمم میں بی آر ایس کے امیدوار پی اجئے کمار اور تلگو دیشم کے امیدوار این ناگیشور راؤ کے بعد نوٹا کو تیسرا مقام حاصل ہوا تھا ۔۔ ن