نوٹری جائیدادوں کی رجسٹری پر پابندی سے شہریوں کو مشکلات

   

بینک دستاویزات سے استثنیٰ کا اعلان، حکومت کا وعدہ، احکامات کی عدم اجرائی

حیدرآباد: ریاست تلنگانہ میں حکومت کی جانب سے لنک ڈاکیومنٹ کے بغیر نوٹری پر خریدی ہوئی جائیدادو ںکی رجسٹری پر عائد پابندی کے سبب کئی شہریوں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑرہا ہے جبکہ چیف منسٹر مسٹر کے چندر شیکھر راؤ نے تلنگانہ میں نوٹری پر موجود جائیدادوں کی رجسٹری کیلئے ایک موقع فراہم کرنے کااسمبلی اجلاس کے دوران اعلان کیا تھا لیکن اس کے باوجود اب تک اس سلسلہ میں کوئی احکامات جاری نہیں کئے گئے اور نہ ہی سب رجسٹرار کی جانب سے لنک دستاویزات کے بغیر نوٹری پر خریدی گئی جائیدادوں کی منتقلی کے اقدامات کئے جارہے ہیں۔ ریاست میں حکومت کی جانب سے اراضیات اور جائیدادوں کو باقاعدہ بنانے کے اعلان اور نئی حکمت عملی کی تیاری کے سبب جو صورتحال پیدا ہوئی تھی اس میں کئی مشکلات کا سامنا کرنا پڑاتھا اور اسی دوران ریاستی حکومت کی جانب سے نوٹری پر موجود جائیدادوں کی رجسٹری نہ کرنے کا اعلان کرتے ہوئے اس پر مکمل پابندی عائد کردی گئی تھی اور یہ پابندی اب بھی جاری ہے جس کی وجہ سے نوٹری پر خریدی گئی جائیدادوں کے مالکین میں تشویش پائی جا رہی ہے اور کہا جا رہاہے کہ اگر ریاستی حکومت کی جانب سے اعلان کے مطابق احکام جاری کرنے کے اقدامات نہیں کئے جاتے ہیں تو ایسی صورت میں انہیں مزید مشکلات کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے ۔سال گذشتہ ماہ ستمبر کے دوران منعقدہ ایک اجلاس کے دوران ریاستی وزیر مسٹر کے ٹی راما راؤ نے عہدیداروں کو اس سلسلہ میں ہدایات جاری کرتے ہوئے کہاتھا کہ تلنگانہ میں جو جائیدادیں نوٹری پر خریدی گئی ہیں ان کی رجسٹری کے اقدامات کئے جائیں لیکن اس سلسلہ میں کوئی احکامات جاری نہ کئے جانے کے سبب محکمہ مال اور اسٹامپس اینڈ رجسٹریشن کی جانب سے اس سلسلہ میں کوئی پیشرفت نہیں کی جاسکی ہے۔ محکمہ اسٹامپس اینڈ رجسٹریشن کے عہدیدارو ںکے مطابق اگر حکومت کی جانب سے نوٹری پر موجود جائیدادوں کی رجسٹری کے اقدامات کئے جاتے ہیں تو ایسی صورت میں ریاست کی آمدنی میں زبردست اضافہ ہوسکتا ہے ۔عہدیداروں کے مطابق صرف مجلس بلدیہ عظیم تر حیدرآباد کے حدود میں جملہ 24لاکھ 50ہزار جائیدادیں ایسی ہیں جو کہ نوٹری پر ہیں اور ان میں 14لاکھ 10ہزار رہائشی جائیدادیں ہیں جبکہ 2لاکھ10ہزار تجارتی جائیدادیں شامل ہیں۔ اس کے علاوہ 8 لاکھ سے زائد ایسی جائیدادیں نوٹری پر ہیں جن کا اسیسمنٹ نہیں کیا گیا ہے۔ محکمہ اسٹامپس و رجسٹریشن کے عہدیداروں کے مطابق ریاست میں اگر حکومت کی جانب سے نوٹری کے دستاویزات پر رجسٹری کی راہ ہموار کرنے کے اقدامات کئے جاتے ہیں تو ایسی صورت میں ریاست کی آمدنی میں اضافہ ہونے کے علاوہ نوٹری پر خریدی گئی جائیدادوں کے مالکین کو بڑی راحت حاصل ہوگی۔ ذرائع کے مطابق حکومت کو منتخبہ نمائندوں کی جانب سے توجہ مبذول کروائے جانے کے بعد ان کی نمائندگیوں کو نظر انداز کیا جارہا ہے جبکہ خود حکومت نے اس بات کا تیقن دیا تھا کہ نوٹری جائیداد مالکین کو اپنی جائیدادوں کا رجسٹریشن کروانے کے لئے ایک موقع فراہم کیا جائے گا۔