حکومت کے تیقن کے باوجود خاموشی ، مالکین جائیدادوں کو مشکلات کا سامنا
حیدرآباد۔4نومبر(سیاست نیوز) ریاست تلنگانہ میں حکومت کی جانب سے نوٹری کی جائیدادوں کو رجسٹری کا موقع فراہم کرنے کے سلسلہ میں کابینی ذیلی کمیٹی کی تشکیل دینے کا تیقن دیا گیا تھا اور گذشتہ اسمبلی اجلاس کے دوران بھی نوٹری جائیدادوں کی رجسٹری کا موقع فراہم کرنے کے لئے مطالبہ کیا گیا تھا لیکن اس کے باوجود بھی ریاستی حکومت کی جانب سے اب تک اس سلسلہ میں کوئی اقدامات نہیں کئے گئے اور نہ ہی ریاستی حکومت کی جانب سے نوٹری کی جائیدادوں کے مسائل کے حل کے سلسلہ میں کوئی احکامات کی اجرائی عمل میں لائی گئی ہے جس کے سبب ان جائیدادوں کے مالکین کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑرہا ہے جنہوں نے نوٹری پر جائیدادیں خریدی ہوئی ہیں اور اب رجسٹری کروانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ دونوں شہروں حیدرآبادو سکندرآباد کے علاوہ ریاست کے کئی اضلاع میں لاکھوں ایسی جائیدادیں ہیں جو کہ نوٹری پر فروخت کی گئی ہیںلیکن ان کی رجسٹری نہیں ہوپائی ہے لیکن ریاستی حکومت کی جانب سے نوٹری کی جائیدادوں کی رجسٹری نہ کرنے کے فیصلہ کے بعد سے جوصورتحال پیدا ہوئی ہے اس سے کئی جائیداد مالکین کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑرہا ہے اور جو مالکین جائیداد اپنی نوٹری والی جائیدادوں کو فروخت کرنے کی کوشش کر رہے ہیں انہیں مناسب خریدار نہیں مل پارہے ہیں ۔ حکومت کی جانب سے نوٹری کی جائیدادوں کی رجسٹری کے لئے ایک موقع فراہم کرنے کے اقداما ت کے سلسلہ میں کی جانے والی نمائندگیوں کے باوجود حکومت کی جانب سے مطالبہ کو نظر انداز کیا جارہا ہے۔ رئیل اسٹیٹ شعبہ میں اصلاحات کے نام پر کی جانے والی کوششوں کے درمیان ریاست تلنگانہ میں چھوٹی چھوٹی جائیدادوں کے مالکین جو نوٹری پر مکان یا دکان خریدے ہوئے ہیں وہ مسائل کا شکار بن رہے ہیں۔رئیل اسٹیٹ معاملتوں کے ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر حکومت کی جانب سے کم از کم ان جائیدادوں کے لئے جو 500 گز سے کم کی ہیں اور نوٹری پر ہے رجسٹری کے لئے احکام جاری کئے جاتے ہیں تو ایسی صورت میں لاکھوں مالکین جائیداد کو اس کا فائدہ ہوگا اور وہ اپنی جائیدادوں کی رجسٹری کے اقدامات کو یقینی بناسکتے ہیں۔محکمہ مال اور اسٹامپس اینڈ رجسٹریشن کے عہدیدارو ںکا کہناہے کہ اگر حکومت نوٹری کے ذریعہ اراضیات کی خریدی وفروخت پر روک باقی رکھنا چاہتی ہے تو رکھ سکتی ہے لیکن اگر چھوٹی جائیدادوں کے لئے راحت فراہم کرنے کے اقدامات کی صورت میں عام شہریوں کو اس کا فائدہ حاصل ہوگا۔م
