نوٹ برائے ووٹ کیس ‘چارج شیٹ داخل

   

ریونت ریڈی اہم ملزم، چندرا بابو نائیڈو کا نام بھی شامل
حیدرآباد: انفورسمنٹ ڈائرکٹوریٹ نے دونوں تلگو ریاستوں میں سنسنی پیدا کرنے والے نوٹ برائے ووٹ کیس میں چارج شیٹ داخل کردی ۔ 2015 ء میں ایم ایل سی انتخابات کے موقع پر تلگو دیشم کے امیدوار کے حق میں رائے دہی کیلئے نامزد رکن اسمبلی اسٹیفنسن کو بھاری رقم کا پیشکش کیا گیا تھا۔ موجودہ رکن پارلیمنٹ ریونت ریڈی جو اس وقت رکن اسمبلی تھے، انہیں پولیس نے بھاری رقم کے ساتھ رنگے ہاتھوں گرفتار کیا تھا ۔ عدالت میں پیش کردہ چارج شیٹ میں ریونت ریڈی کو اہم ملزم کے طور پر شامل کیا گیا ۔ ریونت ریڈی کے علاوہ کرشنا ریڈی ، سبسٹین کے علاوہ تلگو دیشم سربراہ چندرا بابو نائیڈو کے رول پر انفورسمنٹ ڈائرکٹوریٹ نے شبہات کا اظہار کیا ہے ۔ چندرا بابو نائیڈو کی اسٹیفنسن سے فون پر بات چیت کی آڈیو ریکارڈنگ کی بنیاد پر ان کا نام چارج شیٹ میں شامل کیا گیا ہے۔ 31 مئی 2015 ء کو یہ معاملہ منظر عام پر آیا تھا اور ریونت ریڈی 50 لاکھ روپئے کی رقم کے ساتھ اسٹیفنسن کی قیامگاہ پہنچے تھے ۔ تقریباً 6 سال گزرنے کے بعد عدالت میں چارج شیٹ داخل کی گئی ہے۔ اس مقدمہ کی آئندہ کارروائی کے سلسلہ میں سیاسی حلقوں میں مختلف قیاس آرائیاں کی جارہی ہیں۔