حیدرآباد۔ نوٹ برائے ووٹ کیس میں رکن پارلیمنٹ ریونت ریڈی کو اسوقت دھکہ لگا جب ہائی کورٹ میں ان کی درخواست مسترد کردی گئی۔ ریونت ریڈی نے اپنی درخواست میں کہا تھا کہ نوٹ برائے ووٹ کا معاملہ الیکشن کمیشن کے دائرہ کار میں آتا ہے اور یہ اینٹی کرپشن بیورو کا معاملہ نہیں ہے۔ عدالت نے درخواست کی سماعت کے بغیر ہی مسترد کردیا۔ سابق میں اے سی بی عدالت نے بھی ریونت ریڈی کی اسی طرح کی درخواست کو مسترد کردیا تھا جس کے بعد وہ ہائی کورٹ سے رجوع ہوئے۔ 2015 میں ایم ایل سی انتخابات کے موقع پر نامزد رکن اسمبلی اسٹیفن سن کو تلگودیشم امیدوار کے حق میں ووٹ دینے کیلئے بھاری رقم کی پیشکش کی گئی تھی۔ اس وقت ریونت ریڈی تلگودیشم کے رکن اسمبلی تھے اور انہیں اے سی بی نے بھاری رقم کے ساتھ رنگے ہاتھوں گرفتار کیا گیا تھا۔ 2015 سے اس معاملہ کی تحقیقات جاری تھی اور حال ہی میں انفورسمنٹ ڈائرکٹوریٹ کی جانب سے چارج شیٹ داخل کی گئی۔ اس طرح عدالت کی کارروائی میں تیزی پیدا ہوئی ہے۔