نوٹ بندی کے غلط فیصلے سے ملک کی معیشت تباہ

   

کورونا بحران ، مرکزی حکومت کے 20 لاکھ کروڑ کا پیاکیج بے فیض : کے ٹی آر
حیدرآباد :۔ ریاستی وزیر بلدی نظم و نسق کے ٹی آر نے نوٹ بندی کے فیصلے سے ملک کی معیشت تباہ ہوجانے کا دعویٰ کرتے ہوئے وزیراعظم کی جانب سے غلط فیصلہ کرنے کا الزام عائد کیا ۔ شہر کی ایک خانگی ہوٹل میں منعقدہ ’ ہوشیار حیدرآباد وتھ کے ٹی آر ‘ پروگرام سے خطاب کرتے ہوئے ان خیالات کا اظہار کیا ۔ نوٹ بندی سے معیشت تباہ ہوگئی ۔ بیروزگاری میں اضافہ ہوگیا اور شرح غربت میں بھی اضافہ ہوگیا ۔ انہوں نے کہا کہ کورونا سے ہر کوئی مسائل سے دوچار ہوا ہے ۔ تجارتی شعبے کے علاوہ دوسرے شعبے بری طرح متاثر ہوئے ہیں ۔ لاک ڈاؤن کے دوران تلنگانہ میں 6 ماہ کے برقی چارجس معاف کئے گئے ۔ تاجرین کی حکومت نے مدد کی ہے ۔ چیف منسٹر ریلیف فنڈ سے کئی افراد کی مدد کی گئی ہے ۔ کے ٹی آر نے کہا کہ کورونا بحران اور لاک ڈاؤن کے دوران مرکزی حکومت نے جو 20 لاکھ کروڑ روپئے کے پیاکیج کا اعلان کیا ہے ۔ اس سے کسی کو کوئی فائدہ نہیں پہونچا ۔ نوٹ بندی سے معاشی نظام درہم برہم ہوگیا ۔ ٹی آر ایس کے دور حکومت میں آنے سے قبل صنعتی شعبوں کو پاور ہالی ڈے کا اعلان کیا جاتا ہے ۔ برقی سربراہی کو یقینی بنانے کا مطالبہ کرتے ہوئے تاجرین اندرا پارک پر احتجاجی دھرنے منظم کیا کرتے تھے ۔ فی الحال ریاست میں 24 گھنٹے معیاری برقی سربراہ کی جارہی ہے ۔ وہ جب حیدرآباد میں زیر تعلیم تھے تب کرفیو کی وجہ سے تعطیلات ملا کرتی تھی ۔ ٹی آر ایس کے اقتدار میں آنے کے بعد شہر حیدرآباد سے کرفیو کا خاتمہ ہوگیا ۔ کے ٹی آر نے کہا کہ بہت جلد کومپلی میں آئی ٹی پارک کا آغاز کیا جائے گا ۔ آئی ٹی شعبہ کو توسیع دینے پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ تعلیم اور طب کے شعبوں کو روزگار سے جوڑتے ہوئے ترقی دی جارہی ہے ۔ آوٹر رنگ روڈ کے اطراف ٹاون شپس کو ترقی دی جارہی ہے ۔ آئی ٹی ، لائف سائنس ، ایرو اسپیس ، الکٹرانک شعبوں کا حیدرآباد میں روشن مستقبل ہونے کا دعویٰ کیا۔ انہوں نے کہا کہ شہر حیدرآباد کورونا ویکسین تیار کرنے کے ہب میں تبدیل ہوجائے گا ۔ بنیادی سہولتیں اور انفراسٹرکچر کو فروغ دینے کی وجہ سے ریاست میں بڑے پیمانے کی سرمایہ کاری ہورہی ہے ۔