نوٹ بندی کے فیصلہ سے کالا دھن کم ہوا:مودی

,

   

Ferty9 Clinic

۔4 سال میں رشوت میں کمی ہوئی ، سرکاری کاموں میں شفافیت کا دعویٰ ، قومی ترقی کیلئے عظیم فائدہ

نئی دہلی : وزیراعظم نریندر مودی نے 4 سال قبل اپنے نوٹ بندی کے فیصلے کی مدافعت کرتے ہوئے کہا کہ 4 سال پہلے انہوں نے نوٹ بندی کا جو سخت فیصلہ کیا تھا آج اُس کے بہترین نتائج سامنے آرہے ہیں ۔ مودی نے اچانک فیصلہ کرتے ہوئے ملک کی عوام کو حیرت زدہ کیا تھا ۔ تقریباً 86 فیصد لوگ نوٹ بندی کا شکار ہوئے تھے اور معیشت پر اس کا برا اثر پڑا تھا لیکن وزیراعظم مودی نے دعویٰ کیا کہ ان کے فیصلے سے ہندوستان کی معیشت مکمل طور پر بحال ہوئی ہے ۔ نوٹ بندی سے جہاں کرپشن میں کمی آئی ہے وہیں سرکاری کام کاج میں شفافیت بھی پیدا ہوئی ہے ۔ /8 نومبر 2016 ء کو صرف 4 گھنٹے کی نوٹس پر وزیراعظم مودی نے اعلان کیا تھا کہ نصف شب سے 500 اور 1000 روپئے کے نوٹ بند ہوجائیں گے ۔ اس اعلان کے فوری بعد اے ٹی ایمس اور بینکوں کے باہر کئی ہفتوں تک عوام کی طویل قطاریں دیکھی گئیں جہاں لوگ نئے نوٹس نکالنے کیلئے بینکوں میں چکر کاٹ رہے تھے ۔ ملک کا متوسط طبقہ بری طرح متاثر ہوا تھا اور تجارتی سرگرمیاں ٹھپ ہوگئی تھیں ۔ وزیراعظم مودی نے نوٹ بندی کا فیصلہ سنانے کے بعد اپنی مقبول عام تقریر اور لب و لہجہ کے ذریعہ عوام سے کہا تھا کہ عوام کو اس فیصلہ کے بعد 50 دن تک تکلیف برداشت کرنی ہوگی ۔ میرے فیصلہ سے حالات بہترین ہوجائیں گے اگر نہ ہوں تو وہ کسی بھی قسم کی سزاء کا سامنا کرنے تیار ہیں ۔ انہوں نے یہ بھی کہا تھا کہ انہیں کسی چوراستے پر زندہ جلادیا جائے ۔ نوٹ بندی کے کئی ماہ تک عوام کو رقومات حاصل کرنے میں مشکلات کا سامنا ہوا ۔ ملک کی معیشت بری طرح تباہ ہوئی ۔ عالمی بینک کے مطابق 2016 ء میں یہ معیشت 8.25 فیصد تھی جو گھٹ کر 2019 ء میں 5.02 ہوگئی ۔وزیراعظم نریندر مودی نے ٹویٹ کرتے ہوئے لکھا کہ اتوار کو نوٹ بندی کے 4 سال پورے ہوئے ہیں ۔ نوٹ بندی سے کالا دھن کم کرنے میں مدد ملی ۔ ٹیکس وصولی میں اضافہ ہوا اور سرکاری کاموں میں شفافیت کے ساتھ بہتری آئی ۔ قومی ترقی کی سمت ثمرآور نتائج برآمد ہوئے ۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کیلئے استعمال کئے جانے والے کالے دھن سے عوام کو بڑی حد تک راحت دی گئی ہے ۔ کئی ماہرین معاشیات نے نوٹ بندی کے فیصلے کو سب سے بھیانک فیصلہ قرار دیا تھا اور وزیراعظم مودی کے اس فیصلے کو فاش غلطی قرار دیا تھا ۔