لندن : راجا بیگم نے جب ایک انڈین کی یوکرین میں موت خبر سنی تو صدمے سے زمین پر گر گئیں۔ راجا بیگم کو یقین تھا کہ یہ انہی کا کھویا ہوا بیٹا ہے جو نوکری کے لیے روس گیا تھا اور وہاں سے یوکرین کے خلاف جنگ کے لیے بھجوا دیا گیا تھا۔انڈیا کے زیر انتظام کشمیر کی رہائشی 60سالہ راجا بیگم نے بتایا کہ جنوری سے ان کی اپنے بیٹے سے بات نہیں ہوئی جو نوکری کی تلاش میں روس کے دارالحکومت ماسکو گئے تھے۔بھارتی تحقیقاتی اداروں کے مطابق انسانی ٹریفکنگ کا ایک بڑا نیٹ ورک کم از کم 35 افراد کو نوکری کا جھانسہ دے چکا ہے۔سائبر سکیورٹی کے ماہرین کا کہنا ہے کہ انڈیا اپنی بڑی آبادی اور نوکریوں کی کمی کی وجہ سے ٹریفکنگ کے نیٹ ورکس کے لیے ایک زرخیرز مقام ہے جہاں وہ سوشل میڈیا پر نوکریوں کی تشہیر کے ذریعے لوگوں کو اپنی جانب راغب کرتے ہیں۔راجا بیگم کے بیٹے آزاد یوسف کمار کشمیر میں ٹیوب ویل کھودنے کا کام کرتے تھے۔ نوکری کی تلاش میں انہیں یوٹیوب پر ایک ویڈیو نظر آئی جس میں نوکری اور روس کی مستقل شہریت کا وعدہ کیا گیا تھا۔انڈیا کے سنٹرل بورڈ آف ریونیو کے مطابق چند اشتہارات میں طلبا کو نجی یونیورسٹیوں میں داخلے کی آفر بھی کی گئی تھی اور ساتھ میں بغیر کسی فیس کے سٹڈی ویزے کی پیشکش بھی کی گئی تھی۔آزاد یوسف کمار نے ماسکو میں نوکری کے لیے 3 ہزار 620 ڈالر بھی ادا کیے تھے۔ گزشتہ سال دسمبر میں وہ اپنی بیوی اور بیٹے کو چھوڑ کر ماسکو کے لیے روانہ ہوئے تھے، لیکن جب وہ ماسکو پہنچے تو متعلقہ حکام نے ان سے پاسپورٹ اور موبائل فون لے لیا اور یوکرین میں روسی فوجوں کے ہمراہ لڑنے کے لیے ایک سال کے کانٹریکٹ پر دستخط کروائے۔آزاد یوسف کمار کے بھائی سجاد کمار نے بتایا کہ پندرہ دنوں کے ٹریننگ سیشن کے دوران ہی ان کی ٹانگ میں گولی لگ گئی تھی۔11جنوری کو آزاد یوسف کا آخری پیغام موصول ہوا جس میں وہ اپنی فیملی سے ’اس خطرناک جگہ سے نکلوانے‘ کی التجا کر رہے تھے۔اپنے واٹس ایپ وائس میسج میں آزاد یوسف کا کہنا تھا کہ ’مجھے موت سے بچا لیں، پلیز مجھے یہاں سے نکالیں۔‘روس جانے والے افراد میں سے کم از کم دو کی یوکرین کے خلاف لڑتے ہوئے موت واقع ہو چکی ہے۔روس میں انڈین سفارتخانہ بھی ایک شخص کی ہلاکت کی تصدیق کر چکا ہے۔رواں ماہ سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو گردش کرتی رہی جس میں مزید سات افراد انڈین حکومت سے اپیل کر رہے تھے کہ ملک واپس آنے میں ان کی مدد کی جائے۔