نو سالہ لڑکا عجیب و غریب بیماری کا شکار علاج کے لیے 9 کروڑ روپئے کے مصارف

   

103 ہفتے انجکشن لینا ضروری ، ایک انجکشن کی قیمت 5.4 لاکھ روپئے ، علاج کروانے نیویارک ریسرچ انسٹی ٹیوٹ تیار
حیدرآباد ۔ 21 ۔ فروری : ( سیاست نیوز ) : اگر آپ سے کہا جائے کہ ایک لڑکا ہے جس کی عمر صرف 9 سال ہے اور وہ ایسی عجیب و غریب بیماری میں مبتلا ہے ۔ جس کے علاج پر زائد از 9 کروڑ روپئے کے مصارف آرہے ہیں ۔ اسے 103 ہفتوں تک جو انجکشن لینے کی ڈاکٹروں نے ہدایت کی ہے ۔ صرف ایک انجکشن کی قیمت دو لاکھ ستر ہزار روپئے ہے ۔ اور اسے ہر ہفتہ ایسے دو انجکشن لینا ضروری ہے ( اس کا مطلب یہ ہوا کہ صرف ایک ہفتہ میں اس لڑکے کو 5 لاکھ 40 ہزار کے انجکشن لینا ہوگا ۔ ) تو ہمیں یقین ہے کہ آپ میں سے بیشتر ہماری بات پر یقین نہیں کریں گے لیکن یہ حقیقت ہے ۔ آج ہم آپ کی ملاقات اس بیمار لڑکے محمد ایان کریم سے کرواتے ہیں ۔ ایان کے والد تاج الدین ایک پوسٹ میان ہے وہ بیلم پلی ضلع منچریال کے رہنے والے ہیں ۔ تاج الدین کے مطابق ایان اپنی پیدائش کے کچھ ماہ تک ٹھیک ٹھاک تھا لیکن اچانک اسے دست شروع ہوگئے ۔ پیٹ میں تکلیف رہنے لگی ۔ چہرہ اور گردن پر سوجن آنے لگی ۔ تاج الدین اور ان کی اہلیہ نے اپنے نور نظر کی اس بیماری کو ایک عام بیماری سمجھا ۔ مقامی ڈاکٹروں سے علاج کروایا ۔ سرکاری ہاسپٹلوں سے بھی رجوع ہوئے لیکن کہیں بھی ایان کے مرض کی تشخیص نہیں ہوئی ۔ محمد تاج الدین کے مطابق انہوں نے اپنے بیٹے کا علاج کروانے دہلی حیدرآباد اور چندی گڈھ کے ڈاکٹروں سے مشورہ کیا اور ان سے علاج بھی کروایا ۔ ان تمام ہاسپٹلوں میں ایان کے ڈھیر سارے معائنے کیے گئے جن کی رپورٹس بالکل نارمل آئیں ۔ دو ماہ قبل رینبو ہاسپٹل میں اس کمسن بچے کے ڈی این اے ٹسٹ کروائے گئے جس سے پتہ چلا کہ ایان ایک ایسی بیماری میں مبتلا ہے جسے شاذ و نادر بیماری کہا جاتا ہے ۔ دنیا میں اس بیماری سے متاثرہ بچوں کی تعداد صرف 10 تا 11 ہے اور ہندوستان میں صرف ایان کو یہ بیماری لاحق ہے ۔ دراصل انگریزی میں اس بیماری کو Complement Hyperactivation Angiopathic Thrombosis and Prolein Losing Enderopathy کہا جاتا ہے جس میں متاثرہ بچوں کے جسم میں پروٹین بن نہیں پاتے ۔ اسے Chaple Syndrome بھی کہا جاتا ہے ۔ محمد تاج الدین نے جن کی آنکھوں میں آنسو بھر آئے تھے ۔ گلوگیر آواز میں بتایا کہ وہ اپنی محدود آمدنی (تنخواہ ) کے باوجود رشتہ داروں کی مدد سے اپنے بیٹے کا علاج کرواتے رہے صرف رین بو ہاسپٹل میں ایان کو مہینہ میں تین بار شریک کروانا پڑتا ہے ۔ بچہ خون کی کمی کا شکار ہوجاتا ہے ۔ پوٹاثیم اور الیومین کی کمی ہوجاتی ہے اب تک اس بچے کے علاج پر 30 تا چالیس لاکھ روپئے خرچ ہوچکے ہیں ۔ جب ڈاکٹروں نے بتایا کہ اس بچے کو 103 ہفتوں تک Eculi Sumaba 200mg انجکشن کے دو Dose دینا ضروری ہے اور ایک Dose کی قیمت 2.7 لاکھ روپئے ہے تب ان کے پیروں سے زمین کھسک گئی اور وہ سوچنے لگے کہ اس قدر کثیر رقم کا انتظام ان جیسا غریب تو دور دولت مند بھی نہیں کرسکتے ۔ انہوں نے بارگاہ رب العزت میں سربسجود ہو کر دعائیں کی نتیجہ یہ نکلا کہ نیویارک امیونولوجی ریسرچ انسٹی ٹیوٹ نے اس کے علاج پر راضا مندی ظاہر کی اور بتایا کہ وہ ایان کے لیے 103 ہفتوں کے انجکشن کا انتظام کریں گے ۔ ساتھ ہی اس کے علاج کا انتظام کریں گے جس کے لیے تقریبا 27 ماہ درکار ہوں گے تاہم مذکورہ امریکی انسٹی ٹیوٹ نے ایان کو صرف 6 ماہ تک اپنے یہاں رکھنے اور مابقی دیڑھ سال Rainbow میں علاج مکمل کروانے کی پیشکش کی ہے ۔ بہر حال اب اس لڑکے کو امریکہ لے جانے اور وہاں 6 ماہ تک قیام کے لیے 15-20 لاکھ روپئے درکار ہیں اور ایان کے خاندان کے لیے یہ ایسی رقم ہے جس کا اب وہ تصور بھی نہیں کرتے ۔ اس سلسلہ میں تاج الدین نے دنیا بھر میں پھیلے ہوئے قارئین سیاست سے اپیل کی کہ وہ ان کے بیٹے کی جان بچانے میں مدد کریں وہ زندگی بھر ان لوگوں کے لیے بارگاہ رب العزت میں دعا کریں گے ۔ بہر حال اس پریشان حال خاندان کی مدد کے خواہاں افراد اس اکاونٹ نمبر :
MD Tajuddin
SBI Bellampally Branch
A/C No. 20420707794
IFSC Code: SBIN0015911
یا گوگل پے نمبر 9849338033 کے ذریعہ عطیات جمع کرواسکتے ہیں ۔۔