نو منتخب ایرانی صدر کے سخت گیر خیالات سے مسائل کا اندیشہ

   

نیویارک : تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ایران کے رہبر اعلیٰ آیت اللہ خامنہ ای کے قریبی معتمد ابراہیم رئیسی بطور صدر مغربی ممالک کے ساتھ تعلقات بحال کرنے میں مددگار ثابت ہو سکتے ہیں تاہم ان کے سخت گیر خیالات کے باعث مسائل بھی پیدا ہونے کے امکانات ہیں۔فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق ایران کے نو منتخب صدر کو ملکی معیشت میں بہتری لانے کے حوالے سے دباؤ کا سامنا ہے جس کے باعث وہ 2015 کے جوہری معاہدے میں امریکہ کی واپسی کے لیے یورپی یونین کی کوششوں میں رکاوٹ نہیں ڈالیں گے۔تاہم تجزیہ کاروں نے اس خیال کا بھی اظہار کیا ہے کہ ابراہیم رئیسی کی امریکہ کے لیے نفرت مغربی مطالبات پورے کرنے میں رکاوٹ کا باعث بن سکتی ہیں، جن میں ایران کا بیلسٹک میزائل پروگرام، ہمسایہ ممالک میں مداخلت اور مغربی ممالک کے شہریوں کی حراست سے متعلق معاملات شامل ہیں۔برطانوی تھنک ٹینک ’چیٹم ہاؤس‘ میں ریسرچر صنم وکیل کا کہنا ہے کہ خامنہ ای کی طرح ابراہیم رئیسی کو بھی ایران سے متعلق مغربی ممالک کے ارادوں پر شکوک و شہبات ہیں جس کے باعث وہ ان ممالک کے ساتھ تعلقات میں احتیاط برتیں گے۔انہوں نے مزید کہا کہ ’یہ رویہ مستقبل میں امریکی مخالفت، معاشی قوم پرستی اور اندرونی جبر کے حوالے سے خبردار کرتا ہے جبکہ اس دوران حقیقت پسندی پر مبنی اقدامات بھی دیکھنے کو ملیں گے۔‘انٹرنیشنل کرائسس گروپ کے تجزیہ کار علی واعظ اور نیسان رفعتی نے ایرانی انتخابات سے متعلق لکھا تھا کہ متحد حکومتی ڈھانچہ اندرونی لڑائی جھگڑوں سے کم سے کم متاثر ہوگا، جو صدر حسن روحانی کے ایجنڈے میں رکاوٹ کا باعث بنے رہے۔تجزیہ کاروں کے مطابق ابراہیم رئیسی آیت اللہ خامنہ ای کے دور کے پہلے صدر ہوں گے جن کے خیالات سپریم لیڈر سے مکمل مطابقت رکھتے ہیں۔ابراہیم رئیسی سے پہلے آیت اللہ خامنہ ای کے تحت چار ایرانی صدور کام کر چکے ہیں جو سپریم لیڈر کے ساتھ مکمل اتفاق رائے نہیں رکھتے تھے۔