نو منتخب کارپوریٹرس کو عوامی مسائل کی یکسوئی پر توجہ دینے کی ضرورت

   

سیاسی جماعتیں محاسبہ کریں ، مزید پہلو تہی پر سنگین مشکلات ممکن
حیدرآباد : شہر حیدرآباد کے بلدی انتخابات کی گہما گہمی ختم ہوچکی ہے اور اب نومنتخب کارپوریٹرس ہیں انہیں اپنے بلدی حلقوں میں موجود مسائل کی نشاندہی کرتے ہوئے ترجیحی بنیادوں پر حل طلب مسائل یکسوئی کی منصوبہ بندی کرنی ہوگی اور ماہ فروری میں ان کی معیادکے آغاز کے ساتھ ہی اپنے اپنے بلدی حلقو ںمیں ترقیاتی کاموں کے آغاز کے ساتھ ساتھ اپنے حلقہ کے بلدی مسائل کو حل کرنے کے لئے اقدامات کا آغاز کرنا ہوگا ورنہ آئندہ اسمبلی انتخابات میں ان سیاسی جماعتو ںکو سنگین حالات کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے۔ جن سیاسی جماعتوں کے امیدواروں کا انحصار اپنے کارپوریٹرس پر ہوتا ہے۔ جی ایچ ایم سی انتخابات کے دوران رائے دہندو ںکی جانب سے جس طرح سے امیدواروں اور انتخابات کو نظر انداز کیا گیا ہے اس کا ان تمام سیاسی جماعتو ںکو جائزہ لینے کی ضرورت ہے جو کامیاب ہوئی ہیں اور ان امیدوارو ںکو بھی صورتحال کا جائزہ لینے کی ضرورت ہے جو ناکام ہوئے ہیں۔ رائے دہی کے دن گھروں سے رائے دہندوں کو نکالنے میں جو دشواریاں پیش آرہی تھیں اس سے تمام سیاسی جماعتو ںکے قائدین اور امیدوار واقف ہیں اور کس طرح سے رائے دہی کا عمل مکمل کیا گیا اس بات سے بھی سب بخوبی واقف ہیں لیکن ان حالات کے باوجود اگر منتخبہ عوامی نمائندوں کو احساس نہیں ہوتا ہے اور وہ اپنے علاقہ کے عوام کے مسائل کے حل کے علاوہ ترقیاتی کاموں کا حصہ نہیں بنتے ہیں تو ایسی صور ت میں انہیں مزید سخت صورتحال کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے۔
شہر حیدرآباد کے کئی علاقوں بالخصوص پرانے شہر میں عرصۂ دراز سے حل طلب ترقیاتی کاموں کے فوری آغاز کے علاوہ مسائل کودور کرنے کے ساتھ ساتھ شہریوں کو سہولتوں کی فراہمی کے سلسلہ میں سرگرم ہوتے ہوئے عوام میں پھیلی ناراضگی کو دور کرنا اولین ترجیح ہونی چاہئے اور سیاسی جماعتوںکے قائدین کو چاہئے کہ وہ اپنے کامیاب ہونے والے اراکین بلدیہ کو اس بات کا پابند بنائیں کہ وہ اپنے حلقہ انتخاب میں موجود مسائل اور ان کی ترجیحات کے علاوہ ترقیاتی منصوبہ کی فہرست تیار کروائیں اورانہیں فوری طور پر نمائندگیوں کے آغاز کے ساتھ ساتھ ان کے کاموں کو شروع کرنے کی ترغیب دیںتاکہ ان پر عوام کا اعتماد بحال ہوسکے اور عوام اپنے حق رائے دہی کے استعمال سے دوبارہ بیزارگی کا اظہار کرنے کے بجائے اپنے علاقہ کی ترقی اور مسائل کے حل کیلئے رائے دہی کے موقع پر گھروں سے نکلیں اور ووٹ کا استعمال کریں۔