نِپاہ وائرس کے پیشِ نظر مغربی بنگال میں ہائی الرٹ

   

کولکاتہ ۔26؍جنوری ( ایجنسیز ) مغربی بنگال میں نپاہ وائرس کے پھیلاؤ کی اطلاعات کے بعد مقامی انتظامیہ نے فوری طور پر ہائی الرٹ جاری کر دیا ہے اور حفاظتی اقدامات سخت کر دیے ہیں۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق صورتحال کے تناظر میں تقریباً 100 افراد کو گھروں میں قرنطینہ کر دیا گیا ہے جبکہ ایک مریض کی حالت تشویشناک بتائی جا رہی ہے۔حکام نے شہریوں کو ہدایت کی ہے کہ وہ احتیاطی تدابیر اختیار کریں اور بلا ضرورت عوامی مقامات پر جانے سے گریز کریں۔ مقامی صحت کے ادارے متاثرہ علاقوں میں نگرانی بڑھا رہے ہیں اور ممکنہ رابطے میں آنے والے افراد کی صحت کی جانچ جاری ہے۔بین الاقوامی سطح پر بھی خطرے کو سنجیدگی سے لیا جا رہا ہے، تھائی لینڈ نے مغربی بنگال سے آنے والے مسافروں کیلئے بڑے ہوائی اڈوں پر متعدی بیماریوں کی اسکریننگ کا آغاز کر دیا ہے تاکہ وائرس کی سرحد پار پھیلنے کی صورت میں فوری طور پر روک تھام کی جا سکے۔واضح رہے کہ نپاہ وائرس پہلی بار 1998 میں ملائیشیا میں سامنے آیا تھا۔ یہ ایک خطرناک زونوٹک وائرس ہے، جو بنیادی طور پر چمگادڑوں کے ذریعے انسانی آبادی تک پہنچتا ہے،اس وائرس کے لیے فی الوقت کوئی مخصوص علاج یا منظور شدہ ویکسین دستیاب نہیں جس کی وجہ سے عوامی احتیاط اور حکومتی اقدامات ناگزیر ہیں۔ماہرین صحت نے تنبیہ کی ہے کہ نپاہ وائرس انسانی جسم میں شدید انفیکشن اور نمونیا جیسے پیچیدہ علامات پیدا کر سکتا ہے اور اس کی بروقت تشخیص اور قرنطینہ کے اقدامات ہی اس کے پھیلاؤ کو روکنے میں مؤثر ثابت ہو سکتے ہیں۔ مغربی بنگال میں موجود طبی ادارے اور حکومت اس وبائی خطرے سے نمٹنے کیلئے شب و روز سرگرم ہیں جبکہ بین الاقوامی کمیونٹی بھی اس صورتحال پر نظر رکھے ہوئے ہے۔