نکاح حلالہ ، کثرت ازدواج کو چیلنج کرنے والی درخواستوں کی مخالفت

   

شرعی قوانین میں مداخلت کی گنجائش نہیں، آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کی سپریم کورٹ میں درخواست

نئی دہلی 27 جنوری (سیاست ڈاٹ کام) آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ نے پیر کو سپریم کورٹ میں ایک درخواست دائر کی ہے جس میں مسلمانوں میں نکاح حلالہ اور کثرت ازدواج کے ضمن میں دستوری جواز کو چیلنج کرتے ہوئے دائر کردہ درخواستوں میں اس کو بھی فریق بنانے کی استدعا کی گئی ہے۔ مسلم پرسنل لاء بورڈ کی درخواست میں کہا گیا ہے کہ ’عائیلی قوانین کو اس بنیاد پر جواز فراہم نہیں ہوا ہے کہ اُنھیں کسی مقننہ کی طرف سے منظور کیا گیا ہے یا پھر کسی ارباب مجاز کی طرف سے بنایا گیا ہے بلکہ عائیلی قوانین کا بنیادی مصدر متعلقہ مذہبی صحیفوں سے ماخوذ ہے۔ مسلم پرسنل لاء بورڈ نے یاد دلایا کہ 1997 ء میں عدالت عظمیٰ خود یہ واضح کرچکی تھی کہ وہ اِن معاملات میں کوئی فیصلہ کرنا نہیں چاہتی۔ بورڈ نے کہاکہ ’شریعت محمدیؐ لازماً قرآن مجید اور حدیث نبویؐ پر مبنی ہے۔ چنانچہ یہ مروجہ قوانین کے دائرہ کار میں نہیں آتے جس کا دستور کی دفعہ 13 میں واضح حوالہ دیا گیا ہے۔اس طرح اس (عائیلی قوانین) کے جواز کو آزمایا نہیں جاسکتا۔ کثرت ازدواج کے طریقہ کار کے تحت کسی مسلم فرد کو چار بیویاں رکھنے کی اجازت حاصل ہے اور نکاح حلالہ کے احکام ہیں کہ اگر کوئی عورت طلاق کے بعد اپنے سابق شوہر سے دوبارہ شادی کرنا چاہتی ہے تو اس کو نکاح حلالہ کے عمل سے گزرنا ہوگا۔ نکاح حلالہ کے مطابق اس عورت کو کسید وسرے شخص سے شادی کرنا ہوتا ہے پھر اُس سے حصول طلاق کرنا اور عدت کی مدت گزارنا ہوتا ہے جس کے بعد ہی وہ اپنے پہلے شوہر سے دوسری مرتبہ نکاح کرسکتی ہے۔ عدالت عظمیٰ نے مارچ 2018 ء میں ان دونوں طریقوں کے جواز کا ازسرنو جائزہ لینے کا فیصلہ کیا تھا۔ کثرت ازدواج اور نکاح حلالہ کے عمل پر دہلی کی ایک خاتون نفیسہ خاں کی درخواست پر نوٹ لیتے ہوئے خواتین کے قومی کمیشن اور مرکزی وزارت اقلیتی اُمور کے نام سپریم کورٹ نے نوٹس جاری کی تھی اور کہا تھا کہ اس کی پانچ رکنی دستوری بنچ پر مقدمہ کی سماعت کی جائے گی۔ سپریم کورٹ کی دستوری بنچ نے 2017 ء میں اپنے فیصلہ کے ذریعہ طلاق ثلاثہ کو منسوخ و کالعدم قرار دیا تھا لیکن کثرت ازدواج اور نکاح حلالہ کے معاملات پر سماعت کو برقرار رکھا تھا۔ پانچ رکنی دستوری بنچ نے 22 اگسٹ 2017 ء کو 3:2 کے اکثریتی فیصلہ سے کہا تھا کہ فوری طلاق یا بہ یک وقت طلاق ثلاثہ کے 1400 سال قدیم عمل کو اس بنیاد پر منسوخ و کالعدم کیا جارہا ہے کہ یہ اسلام کے بنیادی اُصولوں، قرآن مجید اور اسلامی شریعی قوانین کے یکسر مغائر ہیں۔ نفیسہ خاں نے 14 مارچ 2018 ء میں عدالت عظمیٰ سے رجوع ہوتے ہوئے کہا تھا کہ مسلم پرسنل لاء کی رو سے ہندوستانی تعزیری ضابطہ کی دفعہ 494 (شوہر ؍ بیوی کی اپنی زندگی میں پھر ایک مرتبہ شادی) اس برادری میں ناقابل اطلاق ہوجاتی ہے اور کسی بھی شادی شدہ مسلم عورت کو اپنے شوہر کی ایک سے زائد شادی کے خلاف شکایت کرنے کا کوئی حق نہیں رہتا۔