جہیز کی لعنت ناجائز مطالبات۔ ’مسنون نکاح مہم‘سے سرکردہ خواتین کا خطاب
حیدرآباد 2 جنوری (پریس نوٹ) ویمنس ونگ آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ کی جانب سے خواتین و طالبات میں شادی بیاہ میں پائی جانے والی بُرائیاں بیجا رسومات، جہیز، لین دین و اسراف کے خلاف اور آسان و مسنون نکاح کو عام کرنے اور شعور بیدار کرنے کے لئے خصوصی مہم بعنوان ’’مسنون نکاح‘‘ ملک گیر سطح پر چلائی جارہی ہے۔ اس دس روزہ مہم کا دوبارہ آغاز ریاست تلنگانہ و شہر حیدرآباد اور سکندرآباد میں 28 ڈسمبر 2021 ء سے ہوچکا ہے۔ اس مہم کا آغاز بروز منگل آمدارا فنکشن ہال مشیرآباد، سکندرآباد میں ایک روزہ خصوصی کنونشن سے ہوا۔ سیشن کا آغاز محترمہ اسماء ندیم نمائندہ مسلم ڈیولپمنٹ سوسائٹی کے درس قرآن سے ہوا۔ پروفیسر طیبہ سلطانہ نے ’’آسان و مسنون نکاح‘‘ پر روشنی ڈالی اور سنت طریقہ سے شادی بیاہ کو انجام دینے اور خاندانی، سماجی و غیر اسلامی رسومات سے اجتناب کرنے کی تاکید کی۔ ڈاکٹر اسماء زہرہ چیف آرگنائزر ویمنس ونگ نے ’’سوشیل میڈیا اور اصلاح معاشرہ‘‘ کے عنوان پر مخاطب کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ کی حمد و ثناء بیان کی اور کہاکہ اللہ تعالیٰ نے ہمیں اس پروگرام میں جڑنے کا موقع فراہم کیا اور سماجی بُرائیاں جو ہمارے معاشرے کو خراب کررہی ہیں اور کچھ چیزیں جو ہمارے گھروں کو دیمک کی طرح کھارہی ہیں، اس کی طرف توجہ دینا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ ہماری سوسائٹی میں رشتہ کیسا بنتا ہے۔ رشتہ بناتے وقت اللہ تعالیٰ نے کیا احکامات دیئے ہیں۔ اس کو جاننا ہر مسلمان کے لئے ضروری ہے۔ حلال رشتے، حرام رشتوں کے فرق کو قرآن کریم کے ذریعہ بتایا گیا۔ فرائض، حقوق اور ذمہ داریاں اللہ نے بتائے۔ نکاح کو نظام و طریقہ کار، وراثت کا نظام اللہ نے بنایا۔ اللہ تعالیٰ نے حکم دیا اسلام میں پورے کے پورے داخل ہوجاؤ، شیطان کے نقش قدم پر نہ چلو۔ قرآن کی ہر آیت میں اللہ تعالیٰ نے ہم کو نصیحت کی ہے۔ اُنھوں نے کہاکہ ہم ایمان کی وجہ سے دین میں داخل ہوئے ہیں۔ ہمارا دین بہت پاکیزہ مذہب ہے۔ ہمارے تعلقات اور خاندان میں ہر چیز پاک ہوتی ہے۔ اُنھوں نے کہاکہ حلال رشتوں اور حرام رشتوں میں بڑا فرق ہے۔ ہر عورت اور لڑکی یہ عہد کرلے کہ وہ ایک پاکیزہ عورت و لڑکی بنے گی۔ زندگی کے ہر پہلو میں بی بی مریمؑ کی طرح پاکدامنی ہونا چاہئے۔ لایعنی باتوں اور لایعنی چیزوں میں اپنے وقت کو برباد نہیں کرنا چاہئے۔ Affairs میں مبتلا ہونا گناہ اور ناجائز ہے۔ اسلام کی روشن تعلیمات کو اپنا، زندگی کے کسی بھی معاملے میں مشکلات آئیں تو صبر کریں، قربانیاں دیں اور اللہ پر توکل کریں۔ اللہ بہتری کے راستے فراہم کرے گا اور دین و دنیا میں ہماری مائیں اور بہنیں سرخرو ہوں گی۔ محترمہ زارا خان نمائندہ مسلم گرلز اسوسی ایشن نے ’’مسنون نکاح میں نوجوان کا رول‘‘ پر کہاکہ کسی بھی قوم کا بہترین سرمایہ اس کی نوجوان نسل ہوتی ہے۔ نوجوان نسل کے ذریعہ ہی سماج اور معاشرہ میں تبدیلی ممکن ہوسکتی ہے۔ قرآن کریم جیسی عظیم الشان کتاب اور پیارے نبی محمد صلی اللہ علیہ و سلم کی پاکیزہ سیرت روشن و عیاں ہے۔ خوشی اور غم کے مرحلوں سے ہر انسان کو گزرنا پڑتا ہے۔ ان مرحلوں سے صبر و شکر کے ساتھ گزرنے کا آسان و سہل طریقہ قرآن و سنت کے ذریعہ بتایا گیا ہے۔ اُنھوں نے کہاکہ شادی بیاہ کے معاملات میں بھی نوجوان طبقہ ہی بہترین رول ادا کرسکتے ہیں۔ نوجوان لڑکے، لڑکیاں ہی نکاح کو آسان اور مسنون طریقہ پر رائج کرکے جہیز کی لعنت، ناجائز مطالبات، ناچ گانا اور غیر اسلامی رسومات کا مکمل خاتمہ کرسکتے ہیں۔ موجودہ دور کا فتنہ پر روشنی ڈالتے ہوئے اُنھوں نے کہاکہ ہمارے نوجوان لڑکے لڑکیاں سوشل میڈیا کے ذریعہ یا موبائیل فونس کے ذریعہ افیرس میں ہرگز مبتلا نہ ہوں۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ ہماری نوجوان نسل دین سے، قرآن سے اور سیرت نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم سے قریب ہو اور اپنی زندگی کو دین کی بنیادوں پر بسر کریں۔ کالجس کی 500 طالبات اس خصوصی سیشن میں شریک تھیں۔ دعا پر اس کامیاب سیشن کا اختتام عمل میں آیا۔ مختلف علاقوں میں مسنون نکاح مہم کے تحت پروگرامس منعقد کئے جارہے ہیں۔ جو لوگ معاشرہ کی اصلاح کے لئے ’’مسنون نکاح مہم‘‘ کے تحت پروگرامس رکھنا چاہتے ہیں تو وہ دیئے گئے فون نمبرات 9032961712 ، 2332657 پر ربط کرسکتے ہیں۔ عامۃ الناس سے گزارش ہے کہ ’’مسنون نکاح‘‘ جیسے اہم عنوان پر نوجوان لڑکے لڑکیوں اور بزرگ و نوجوان خواتین اور نوجوان و عمر رسیدہ حضرات کو ترغیب دیں کہ اپنے گھروں اور خاندانوں میں ہونے والے نکاح کو مسنون طریقے پر انجام دے کر اس مہم کا حصہ بنیں اور اسے کامیابی سے ہمکنار کریں۔