متوفی سریدھر کے آبائی مقام پلونچہ میں سرکاری اعزاز کے ساتھ آخری رسومات، ریاستی وزیر پونم پربھاکر اور دیگر کی شرکت
کاماریڈی۔ 9 مئی (سیاست ڈسٹرکٹ نیوز) کاماریڈی ضلع کے پالونچہ منڈل مستقر سے تعلق رکھنے والے گرے ہاؤنڈز یونٹ میں کام کرنے والے کانسٹیبل وڈلا سریدھر ملگو اسٹیشن حدود کے وائجیڈو علاقے میں نکسلائٹس کی جانب سے نصب کردہ بارودی سرنگ کے دھماکے میں ہلاک ہوگئے۔ واضح رہے کہ اس دھماکہ میں سریدھر کے بشمول 3 کانسٹبلس ہلاک ہوئے ہیں۔ سریدھر نے کاماریڈی میں ڈگری مکمل کرنے کے بعد 2020 میں ٹی ایس پی ایس سی کا امتحان دیا اور پہلی کوشش میں ہی ساتویں بٹالین میں کانسٹیبل کے طور پر منتخب ہوگئے۔ انہوں نے وہیں پر تربیت مکمل کی اور دو سال قبل گرے ہاؤنڈز یونٹ میں شامل ہوئے۔ وہ حیدرآباد میں گرے ہاؤنڈز یونٹ کے تحت خدمات انجام دے رہے تھے اور اپنی والدہ لکشمی اور بیوی سری وانی کے ساتھ حیدرآباد میں مقیم تھے۔نکسلائٹس کے ہاتھوں جا بحق ہونے کی اطلاع عام ہوتے ہی پالونچہ منڈل میں غم کی لہر دوڑ گئی۔ انسداد نکسل آپریشن کے تحت مرکزی و ریاستی حکومتوں نے مشترکہ طور پر ”آپریشن کاگر” شروع کیا تھا۔ گرے ہاؤنڈز یونٹ کے ساتھ کومبنگ آپریشن کے دوران نکسلائٹس نے بارودی سرنگ سے حملہ کر دیا جس میں سری دھر جا بحق ہوگئے۔ پولیس کے اعلیٰ عہدیداروں نے اس واقعہ کی تصدیق کی ہے۔ قابل ذکر ہے کہ سری دھر کی شادی 22 اگست 2024 کو ہوئی تھی۔ شادی کو ایک سال بھی مکمل نہ ہوا تھا کہ سری دھر کی انتقال کی خبر سے ان کے آبائی گاؤں میں غم کی لہر دوڑ گئی۔ سری دھر کے والد گنگا رام چند سال قبل بیماری کے باعث انتقال کر چکے تھے۔ پولیس نے سری دھر کے اہل خانہ کو اطلاع دیتے ہوئے ان کو ورنگل منتقل کیا۔ جہاں متعلقہ حکام نے سری دھر کی میت ان کے اہل خانہ کے حوالے کر دی اور ان کی میت کو آج ان کے آبائی مقام پلونچہ منڈل مستقر لایا گیا ان کی آخری رسومات سرکاری اعزازات کے ساتھ ادا کی گئی آخری رسومات میں ریاستی وزیر پونم پربھاکر، رکن پارلیمنٹ ظہیر آباد سریش کمار شٹکر، گورنمنٹ ایڈوائزر محمد علی شبیر،رکن اسمبلی یلاریڈی مدن موہن راؤ، ضلع کلکٹر آشیش سنگوان، ضلع ایس پی راجیش چندرا گرے ہاؤنڈز آپریشن کمانڈر۔ راگھواریڈی او ایس ڈی دیانند کے علاوہ اے ایس پی چیتنیا ریڈی نے شرکت کی۔چیف منسٹر کی ہدایت پر ریاستی وزیر پونم پربھاکر نے سریدھر کے افراد خاندان اور ان کی اہلیہ سریوانی سے ملاقات کرتے ہوئے ان سے اظہار تعزیت کیا بعد ازاں پونم پر بھاکر نے صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے بتایا کہ حکومت کی جانب سے گہرا رنج و غم کا اظہار کیا جاتا ہے اور اس واقعے پر شدید برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ تشدد کے راستے سے کچھ حاصل ہونے والا نہیں ہے ، حکومت نکسلائٹس سے بات چیت کے لیے سابق وزیر جانا ریڈی اور کے کشوراؤ کو مقرر کیا ہے۔ ریاستی وزیر نے سریدھر کے افراد خاندان کے ساتھ مکمل تعاون کرنے کا ارادہ ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ حکومت کی جانب سے سری دھر کے افراد خاندان کو 2.17 کروڑ روپے مالی امداد کے علاوہ مکان کی تعمیر کے لیے 300 گز اراضی کی فراہمی اور خاندان میں ایک شخص کو ملازمت فراہم کرنے کا ارادہ ظاہر کیا۔ پونم پربھاکر نے نکسلائٹس سے تشدد کا راستہ ترک کرتے ہوئے عام زندگی بسر کرنے کے لیے بات چیت کرنے کی خواہش کی کیونکہ تشدد کی وجہ سے جانی طور پر نقصان ہوتا ہے اور حکومت اس چیز کو پسند نہیں کرتی لہذا حکومت کی جانب سے کیے جانے والے اقدامات پر سنجیدہ طور پر غور کرتے ہوئے کام کریں تو بہتر ہوگا۔ اس موقع پر سر یدھر کی آخری رسومات سرکاری اعزازات کے ساتھ ادا کی گئی۔منڈل کے کئی سیاسی سماجی قائدین نے افراد خاندان سے اظہار تعزیت کی ۔
