نکسلائٹ تشدد میں 9 سال کے دوران 10 ریاستوں میں 3,749 ہلاکتیں

   

چھتیس گڑھ سب سے زیادہ متاثر، تلنگانہ اے پی و مدھیہ پردیش میں کمی

نئی دہلی 28 اکٹوبر (سیاست ڈاٹ کام) وزارت اُمور داخلہ نے اپنی سالانہ رپورٹ میں کہاکہ گزشتہ 9 سال کے دوران 10 ریاستوں میں نکسلائٹ تشدد کے نتیجہ میں زائداز 3,700 افراد مارے گئے سب سے زیادہ ہلاکتیں چھتیس گڑھ میں ہوئی تھیں۔ وزارت نے اپنی رپورٹ برائے 2018-19 ء میں کہاکہ سی پی آئی (ماؤنواز) ملک میں بائیں بازو کی انتہا پسندی میں دیگر تنظیموں کے مقابلے سب سے زیادہ سرگرم اور متحرک رہی ہے اور تقریباً 88 فیصد پرتشدد واقعات اور ان کے سبب ہونے والی ہلاکتوں کی ذمہ دار ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ 2010 ء کے بعد سے 10 ریاستوں میں نکسلائٹ تشدد کے 10,660 واقعات کے نتیجہ میں کم سے کم 3,749 افراد ہلاک ہوگئے۔ بائیں بازو کی انتہا پسندی میں سب سے زیادہ ہلاکتیں چھتیس گڑھ میں ہوئیں جہاں 2010 ء اور 2018 ء کے دوران نکسلائٹ تشدد کے 3,769 واقعات میں 1,370 افراد ہلاک ہوئے۔ اس مدت کے دوران جھارکھنڈ میں پیش آئے ایسے ہی 3,358 واقعات میں مجموعی طور پر 997 افراد ہلاک ہوگئے۔ بہار میں 1,526 واقعات میں 387 ہلاک ہوگئے۔ آندھراپردیش، بہار، چھتیس گڑھ، مدھیہ پردیش، مہاراشٹرا، اڈیشہ، تلنگانہ، اترپردیش اور مغربی بنگال جیسی 10 ریاستیں نکسلائٹ تشدد سے متاثر ہیں۔ رپورٹ کے مطابق 2018 ء کے دوران بائیں بازو کی انتہا پسندی سے متعلق تشدد مجموعی طور پر 26.7 فیصد کمی بھی ہوئی آندھراپردیش، مدھیہ پردیش اور تلنگانہ میں چار فیصد سے بھی کم واقعات درج کئے گئے۔