نکسل متاثرہ علاقوں کے غریب طلباء کیلئے بلا سود تعلیمی قرض

   

رائے پور: چھتیس گڑھ حکومت نے ماؤنواز متاثرہ اضلاع کے طلبہ کیلئے ایک بڑی پہل کی ہے جس سے ان علاقوں کے معاشی طور پر کمزور طلبہ کے لیے اعلیٰ تعلیم کا ایک نیا دروازہ کھلا ہے ۔ریاستی حکومت نے ان اضلاع کے طلبہ کیلئے تکنیکی اور پیشہ ورانہ تعلیم کیلئے بلا سودی قرضوں کی سہولت کا اعلان کیا ہے ، جس کا بنیادی مقصد ان علاقوں کے طلبہ کو بہتر تعلیم اور روزگار کے مواقع فراہم کرنا ہے ۔وزیر اعلی وشنو دیو سائی نے ’چیف منسٹر ہائر ایجوکیشن لون انٹرسٹ سبسڈی اسکیم‘کے تحت ایک خصوصی مہم شروع کرنے کی ہدایت دی ہے تاکہ ماؤنواز سے متاثرہ اضلاع کے زیادہ سے زیادہ طلباء کو اس اسکیم کا فائدہ پہنچایا جا سکے ۔ اس کے ساتھ ریاست کے دیگر اضلاع کے کلکٹرز سے بھی کہا گیا ہے کہ وہ اس بات کو یقینی بنائیں کہ وہ معاشی طور پر کمزور خاندانوں کے طلباء کو فنی اور پیشہ ورانہ اعلیٰ تعلیم کے لئے صرف ایک فیصد شرح سود پر قرض فراہم کریں۔ اس اسکیم میں 35 تکنیکی اور دیگر پیشہ ورانہ کورسز شامل ہیں جن میں ڈپلومہ، انڈرگریجویٹ اور پوسٹ گریجویٹ سطح کے کورسز شامل ہیں۔ اس اسکیم کے تحت تعلیمی قرض کی سبسڈی کی زیادہ سے زیادہ حد 04 لاکھ روپے مقرر کی گئی ہے ، جس سے طلباء کو اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کیلئے ضروری مالی مدد ملے گی۔ اس اسکیم کے تحت طلباء کیلئے قرض کی باقاعدہ قسطیں ادا کرنا لازمی ہوگا، تاکہ وہ سود کی سبسڈی کا فائدہ اٹھا سکیں۔