عوام اس پر یقین کرے ‘مودی حکومت پر را ہول گاندھی کاطنز
نئی دہلی :کانگریس کے سابق صدر راہول گاندھی نے آج اپنے ایک ٹوئٹ میں مرکز کی این ڈی اے حکومت پر شدید تنقید کرتے ہوئے ’این ڈی اے‘ کی ایک نئی تشریح لوگوں کے سامنے پیش کی۔ انھوں نے این ڈی اے کو ’نو ڈاٹا اویلیبل‘ کے نام سے پکارتے ہوئے لکھا کہ ’’نو ڈیٹا اویلیبل‘ حکومت سب کو یقین دلانا چاہتی ہے کہ آکسیجن کی کمی سے کسی کی موت نہیں ہوئی، احتجاج کرنے والے کسی کسان کی موت نہیں ہوئی، پیدل چلتے ہوئے کسی مہاجر کی موت نہیں ہوئی، کسی کی موب لنچنگ نہیں کی گئی، کسی صحافی کی گرفتاری نہیں ہوئی۔‘‘ اس ٹوئٹ کے آخر میں راہول گاندھی نے لکھا ’’نہ ڈاٹا، نہ جواب، نہ احتساب‘‘۔اپنے ٹوئٹ کے ذریعہ راہول گاندھی نے اشاروں اشاروں میں مودی حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ انھوں نے یہ بتانے کی کوشش کی ہے کہ کورونا بحران میں آکسیجن کی کمی سے لوگوں کی موت، کسان تحریک کے دوران کسانوں کی موت، کورونا بحران کے دوران مہاجرین کی موت، موب لنچنگ اور صحافیوں کی گرفتاری کیلئے ذمہ دار مودی حکومت ہے۔ راہول گاندھی نے کہا کہ حکومت کے پاس کوئی ڈاٹا نہیں ہے، اور وہ یہ چاہتے ہے کہ عوام یقین کرے کہ ایسے واقعات ہوئے ہی نہیں ہیں۔ ٹوئٹ کے ساتھ راہول گاندھی نے ایک ’جی آئی ایف ویڈیو‘ لگائی ہے جس میں ’سب چنگا سی‘ لکھا دکھایا گیا ہے، اور پھر ’چنگا‘ کو کراس کر کے اس پر ’غائب‘ لکھتا ہوا دکھائی دیا۔ یعنی راہول گاندھی نے ’سب غائب سی‘ لکھ کر یہ ظاہر کرنے کی کوشش کی ہے کہ مودی حکومت میں ڈاٹا موجود ہی نہیں، سب غائب ہے۔واضح رہے کہ اس سے قبل جمعہ کو راہل گاندھی نے ریل کرایہ میں سینئر شہریوں کو چھوٹ نہیں دیے جانے پر مرکزی حکومت کو نشانہ بنایا تھا۔ انھوں نے کہا تھا کہ حکومت کے پاس 8400 کروڑ روپے کا ہوائی جہاز خریدنے کیلئے پیسے ہیں، لیکن ریل کرایہ میں بزرگوں کو رعایت دینے کیلئے 1500 کروڑ روپے نہیں ہیں۔ انھوں نے ٹوئٹ میں لکھا تھا کہ ’’اشتہارات کا خرچ 911 کروڑ روپے، نیا ہوائی جہاز 8400 کروڑ روپے، پونجی پتی متروں کے ٹیکس میں چھوٹ 145000 کروڑ روپے سالانہ، لیکن حکومت کے پاس بزرگوں کو ریل ٹکٹ میں چھوٹ دینے کیلئے 1500 کروڑ روپے نہیں ہیں۔‘‘ راہول گاندھی نے ٹوئٹ میں یہ الزام بھی عائد کیا تھا کہ ’’متروں کیلئے تارے تک توڑ کر لائیں گے، لیکن عوام کو کوڑی۔کوڑی کے لیے ترسائیں گے۔‘‘