’نیا بنگلہ دیش‘: شیخ حسینہ کیخلاف بغاوت کے بعد پہلا الیکشن

   

بنگلہ دیش میں عام انتخابات کیلئے باضابطہ انتخابی مہم کا آغاز

ڈھاکہ:22جنوری ( ایجنسیز)بنگلہ دیش میں آئندہ ماہ ہونے والے عام انتخابات کے لیے باضابطہ انتخابی مہم جمعرات کو شروع ہو گئی ہے۔ یہ انتخابات 2024 کی عوامی بغاوت کے بعد پہلی مرتبہ ہو رہے ہیں جس کے نتیجے میں شیخ حسینہ کی طویل آمرانہ حکمرانی کا خاتمہ ہوا تھا۔خبررساں ادارے اے ایف پی کے مطابق انتخابی مہم کے آغاز پر بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی (بی این پی) کے مرکزی امیدوار اور مقبول رہنما طارق رحمان کے ہزاروں حامیوں نے شمالی شہر سلہٹ کی سڑکوں پر ریلی نکالی۔ پارٹی جھنڈے تھامے شرکا طارق رحمان کے حق میں نعرے لگاتے رہے۔ریلی میں شامل کارکنان طارق رحمان کی تصاویر اور بینرز اٹھائے ہوئے تھے۔ طارق رحمان دسمبر میں 17 سالہ جلاوطنی کے بعد وطن واپس آئے تھے اور وہ وزیر اعظم کے منصب کے مضبوط امیدوار سمجھے جا رہے ہیں۔ ریلی کے شرکا نعرے لگا رہے تھے: ’کیا ہمارے پاس لیڈر ہے؟ ہاں، ہمارے پاس لیڈر ہے۔‘دوسری جانب ملک کی سب سے بڑی مذہبی جماعت، جماعت اسلامی بھی دن کے اختتام پر دارالحکومت ڈھاکہ میں اپنی انتخابی مہم کا آغاز کرے گی۔سترہ کروڑ آبادی والے اس جنوبی ایشیائی ملک میں 12 فروری کو عام انتخابات ہوں گے جن میں 350 ارکان پارلیمنٹ کا انتخاب کیا جائے گا۔ماہرین کے مطابق یہ انتخابات شیخ حسینہ کی حکومت کے خاتمے کے بعد پیدا ہونے والے سیاسی بحران کے بعد نئی قیادت کے ظہور کا سبب بن سکتے ہیں اور ملکی سیاست کے ساتھ ساتھ علاقائی تعلقات پر بھی اثر انداز ہوں گے۔یہ انتخابی عمل ایک غیر یقینی سکیورٹی صورتحال میں ہو رہا ہے جہاں گزشتہ ماہ حکومت مخالف احتجاج میں شامل ایک طالب علم رہنما کو قتل کر دیا گیا تھا۔ اس کے علاوہ سوشل میڈیا پر غلط معلومات کے پھیلاؤ کے خدشات بھی ظاہر کیے جا رہے ہیں۔یورپی یونین کے انتخابی مبصرین کے مطابق یہ ووٹنگ 2026 کا ’سب سے بڑا جمہوری عمل‘ ہو گا۔
60 سالہ طارق رحمان بنگلہ دیش میں طارق ضیا کے نام سے زیادہ جانے جاتے ہیں۔ انہوں نے اپنی والدہ اور سابق وزیر اعظم خالدہ ضیا کے انتقال کے بعد بی این پی کی قیادت سنبھالی ہے۔ خالدہ ضیا دسمبر میں 80 برس کی عمر میں انتقال کر گئی تھیں۔چہارشنبہ کی شب طارق رحمان کے مزار پر حاضری کے موقع پر حامیوں نے سڑکوں کے کنارے قطاریں بنا لیں اور ان کی انتخابی بس کے گزرنے پر نعرے لگائے۔دوسری جانب جماعت اسلامی دارالحکومت ڈھاکہ میں اپنے سربراہ شفیق الرحمان کے حلقے سے مہم کا آغاز کرے گی۔اخوان المسلمون سے نظریاتی قربت رکھنے والی یہ جماعت کئی برس کی پابندیوں اور کریک ڈاؤن کے بعد دوبارہ عملی سیاست میں واپسی کی کوشش کر رہی ہے۔شیخ حسینہ کے انڈیا فرار ہونے کے بعد کئی اہم مذہبی رہنماؤں کو جیلوں سے رہا کیا گیا جبکہ مذہبی جماعتیں پہلے سے زیادہ متحرک نظر آ رہی ہیں۔