نیا سکریٹریٹ یا کے سی آر کا شاہی محل؟: محمد علی شبیر

   

اپوزیشن کے عوامی نمائندوں کو روکنا تاناشاہی، مساجد کے مسئلہ پر کے سی آر سے وضاحت کا مطالبہ
حیدرآباد۔/2 مئی، ( سیاست نیوز) سابق اپوزیشن لیڈر محمد علی شبیر نے تلنگانہ کے نئے سکریٹریٹ میں کانگریس کے عوامی نمائندوں کو داخلے سے روکنے پر سخت تنقید کی اور سوال کیا کہ نیا سکریٹریٹ سرکاری کام کاج کیلئے ہے یا پھر یہ کے سی آر کا شاہی محل ہے؟۔ صدر پردیش کانگریس ریونت ریڈی کو سکریٹریٹ میں داخلہ سے روکنے کی مذمت کرتے ہوئے محمد علی شبیر نے کہا کہ گذشتہ 9 برسوں میں کے سی آر نے خود کو سکریٹریٹ سے دور رکھا اور تمام تر سرگرمیاں سرکاری رہائش گاہ پرگتی بھون سے انجام دی گئیں۔ اب جبکہ 1200کروڑ کے صرفہ سے نئی عالیشان عمارت تعمیر کی گئی ہے لہذا کے سی آر کو عوام اور عوامی نمائندوں کیلئے سکریٹریٹ کو کھول دینا چاہیئے۔ انہوں نے کہا کہ اپوزیشن کے عوامی نمائندوں اور سیاسی قائدین کو سکریٹریٹ میں داخلہ سے روکنا غیر جمہوری ہے اور ایسا محسوس ہوتا ہے کہ جمہوریت میں کے سی آر تاناشاہی چلارہے ہیں۔ ریونت ریڈی نے رکن پارلیمنٹ کی حیثیت سے اسپیشل چیف سکریٹری بلدی نظم و نسق سے نمائندگی کا فیصلہ کیا تھا لیکن نہیں سکریٹریٹ میں داخلہ سے روک دیا گیا۔ جس طرح کے سی آر نے پرگتی بھون کو تلنگانہ بھون میں تبدیل کردیا اُسی طرح سکریٹریٹ کو بھی پارٹی آفس کی طرح استعمال کرنا چاہتے ہیں۔ محمد علی شبیر نے کہا کہ عوامی نمائندوں اور عوام کے داخلہ کے بغیر سکریٹریٹ کا تصور ادھورا ہے۔ انہوں نے کہا کہ چیف منسٹر اور وزیر داخلہ نے وعدہ کیا تھا کہ سکریٹریٹ کی تکمیل سے قبل دونوں مساجد کی تعمیر مکمل ہوجائے گی۔ لیکن مساجد کا کام ابھی ابتدائی مرحلہ میں ہے اور تکمیل کیلئے کئی ماہ درکار ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ مساجد کے حقیقی مقام کو تبدیل کردیا گیا ہے۔ اس سلسلہ میں چیف منسٹر اور وزیر داخلہ کو وضاحت کرنی چاہیئے۔ سینکڑوں کروڑ روپئے خرچ کرتے ہوئے چیف منسٹر نے اپنے اجلاس کے طور پر نیا سکریٹریٹ تو تعمیر کرلیا لیکن عوام اور عوامی نمائندوں کو داخلہ سے روکنا ڈکٹیٹر شپ طرزِ حکمرانی کا ثبوت ہے۔ر