بنگلورو: بنگلورو کے کانگریس ایم ایل اے دنیش گنڈو راؤ نے پیر کو راسٹریہ سویم سیوک سنگھ (آر ایس ایس ) پر تنقیدکی اور نیتا جی سبھاش چندر بوس سے تعلق کی آر ایس ایس کی کوششوں پر سوال اٹھائے۔ نیتا جی سبھاش چندر بوس کے یوم پیدائش کے موقع پر لوگوں کو مبارکباد پیش کرتے ہوئے، ایم ایل اے دنیش نے اپنے سوشل میڈیا ہینڈل پر کہا کہ نیتا جی آر ایس ایس کے نظریات کے خلاف تھے۔ وہ کبھی بھی آر ایس ایس کے فلسفے پر یقین نہیں رکھتے تھے۔آر ایس ایس نیتا جی کی یوم پیدائش پر ایک شاندار تقریب منانے کا منصوبہ بنا رہی ہے لیکن، نیتا جی نے کبھی آر ایس ایس سے شناخت نہیں کی اور اب اچانک ان سے محبت کی وجہ کیا ہے؟ “نیتا جی نے کبھی بھی ایک قوم، ایک مذہب اور ایک زبان کے آر ایس ایس کے فلسفے کی حمایت نہیں کی۔ نیتا جی کے نظریے میں تمام فلسفے شامل تھے اور وہ تمام مذاہب کے لوگوں کو ساتھ لے کر چلتے تھے۔ آر ایس ایس نیتا جی کو کیوں ہائی جیک کرنے کی کوشش کر رہی ہے، جن کا اب ایک الگ نظریہ تھا؟ انہوں نے سوال کیا۔ آر ایس ایس نے ہندوستان کی آزادی کی جدوجہد کے لیے کچھ بھی نہیں دیا اور جدوجہد آزادی کے ہیروزکو اپنے لوگوں کے طور پر پیش کرنے کی کوشش کی۔ کچھ عرصہ قبل آر ایس ایس نے بھگت سنگھ کو ہائی جیک کرنے کی کوشش کی، جب یہ بات سامنے آئی کہ وہ آر ایس ایس کے فلسفے کے خلاف تھے، بھگت سنگھ کو اس کے خلاف قرار دیا گیا۔ اب نیتا جی سبھاش چندر بوس کی باری ہے۔ راؤ نے کہا۔ نیتا جی کی بیٹی انیتا بوس نے آر ایس ایس کی طرف سے یوم پیدائش منانے کی مخالفت کی ہے۔ ان کی سالگرہ مناکر، آر ایس ایس نیتا جی کو ہندوتواوادی کے طور پر پیش کر رہی ہے۔ نیتا جی ایک ہندوکے طور پر ہماری طرح تھے اور کبھی بھی ہندوتوا کے فلسفے پر یقین نہیں رکھتے تھے۔