رملہ: 28 اگست (یو این آئی) مقبوضہ مغربی کنارے میں اسرائیلی حملوں میں اضافے کا سلسلہ جاری ہے ۔ اس دوران اسرائیلی ذرائع نے بتایا کہ وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو نے ایک چھوٹے وزارتی فورم کے دوران “مغربی کنارے پر خود مختاری نافذ کرنے ” کے معاملے پر غور کیا۔ اسرائیلی ذرائع ابلاغ کے مطابق اس فورم میں وزیر خزانہ بتسلئیل سموٹرچ، وزیر برائے اسٹریٹجک امور رون دیرمر اور وزیر خارجہ جدعون ساعر نے بھی حصہ لیا۔ ذرائع نے یہ بھی بتایا کہ دیرمر نے مغربی کنارے پر خود مختاری نافذ کرنے کے اقدام کی حمایت کی، جسے چند ہفتوں میں مکمل کرنے کا امکان ہے ۔ فورم یہ بات بھی زیر بحث لایا کہ مغربی کنارے پر مکمل کنٹرول حاصل کیا جائے ، اس سے قبل کہ فلسطینی ریاست کو ممکنہ طور پر تسلیم کیے جانے کے اعلانات ہوں۔ فلسطینی صدر محمود عباس نے گزشتہ منگل کو اسرائیلی اقدامات کو “خطرناک” قرار دیتے ہوئے خبردار کیا تھا۔ انھوں نے امریکی انتظامیہ سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ “اسرائیل کے جرائم” روکنے کے لیے مداخلت کرے ، جن کا مقصد فلسطینیوں کو ہجرت پر مجبور کرنا ہے ۔ یہ بیان ایسے وقت میں آیا ہے جب اسرائیلی افواج نے مغربی کنارے کے متعدد شہروں پر جن میں رام اللہ، الخلیل، نابلس، بیت لحم اور قلقیلیہ شامل ہیں، چھاپے مارے ، درجنوں فلسطینیوں کو گرفتار کیا اور گھروں اور سڑکوں کو نقصان پہنچایا۔ یاد رہے کہ سات اکتوبر 2023 کو غزہ میں جنگ کے آغاز کے بعد سے مغربی کنارے میں کشیدگی میں اضافہ ہوا ہے ۔
اسرائیلی فوج اور آباد کاروں نے مغربی کنارے بشمول مشرقی بیت المقدس میں حملے بڑھا دیے ۔ اس کے نتیجے میں کم از کم 1016 فلسطینی جاں بحق، تقریباً 7000 زخمی اور 18 ہزار سے زائد گرفتار ہو چکے ہیں۔ یہ اعداد و شمار فلسطینی ذرائع کے مطابق ہیں۔