واشنگٹن: غزہ جنگ اور اس کی وجہ سے غزہ میں مسلسل شہری ہلاکتوں میں اضافہ کے خلاف واشنگٹن کے رہنے والے متحرک شہریوں نے اسرائیلی وزیر اعظم کے کانگریس سے خطاب کے موقع پر احتجاج کرنے کی تیاری شروع کر دی ہے۔ اب تک غزہ کی اسرائیلی جنگ میں اسرائیلی فوج نے 38983 سے زائد فلسطینیوں کو قتل کیا ہے۔ یہ احتجاج کیپٹل ہل کے باہر کیے جانے کا امکان ہے۔ احتجاج امریکہ کی اسرائیلی جنگ کیلئے حمایت کے خلاف بھی ہو گا۔نیتن یاہو کی امریکہ آمد آمد ہے، مگر اس بار انہیں جو اعزاز ملنے جارہا ہے وہ اب تک کسی غیر امریکی شخصیت کو نہیں ملا ہے۔ وہ پہلے غیر ملکی ہوں گے جنہیں کانگریس کے مشترکہ اجلاس سے چوتھے خطاب کا موقع ملے گا۔ اس سے بھی اہم بات یہ ہیکہ انہیں یہ موقع امریکی کانگریس کی طرف سے اس وقت دیا جا رہا ہے جب بین الاقوامی سطح پر قانون و انصاف کے دونوں بڑے ادارے اسرائیل اور نیتن یاہو کو جنگی جرائم اور بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزیوں کا مرتکب قرار دے رہے ہیں۔مئی میں فوجداری عدالت نے نتین یاہو اور ان کے وزیر دفاع یووگیلنٹ کو جنگی جرائم کے سلسلے میں وارنٹ گرفتاری جاری کرکے گرفتار کرنے کا اشارہ دیا تھا۔ اس کے کچھ ہی دن بعد امریکی کانگریس نے نیتن یاہو کے ساتھ کھڑا ہونے کیلئے انہیں خطاب کی دعوت دے دی۔مزید دلچسپ یہ بات ہے کہ 19 جولائی کو بین الاقوامی عدالت انصاف نے فلسطینی علاقوں پر اسرائیلی قبضے کو بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی قرار دیا۔ نیز ان مقبوضہ علاقوں میں یہودی بستیاں بنانے کو بھی غیر قانونی کہا ہے۔ لیکن بین الاقوامی عدالت انصاف کے اس فیصلے کے بعد ایک ہفتے کے اندر اندر نیتن یاہو امریکی کانگریس سے خطاب کرنے واشنگٹن پہنچنا چاہتے ہیں۔ واشنگٹن کی پولیس توقع کر رہی ہے کہ اس روز کافی بڑی تعداد میں غزہ جنگ کے مخالفین اور شہریوں کی ہلاکتوں کو روکنے کے حامی کیپیٹل ہل کے باہر مظاہرے کیلئے جمع ہو سکتے ہیں۔ اس لیے اضافی نفری اور انتہائی سیکیورٹی انتظامات کی ضرورت ہوگی۔ تاہم پولیس حکام کا کہنا ہے کہ ابھی تک کوئی ایسا خطرہ اسرائیلی وزیراعظم کو نہیں ہے۔نیتن یاہو اپنے دورہ امریکہ میں صدر بائیڈن سے بھی ملاقات کریں گے۔
امریکہ کو غزہ جنگ کے کئی ماہ کے دوران یونیورسٹیوں میں بھی سخت احتجاج کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ طلبہ کے اس احتجاج کا اثر یورپی ملکوں اور دوسری جگہوں تک منتقل ہوتا نظر آیا ہے۔