تل ابیب : 18جولائی ( ایجنسیز ) جنگی جنونی وزیر اعظم بنجامن نیتن یاہو نے اپنے انتہائی دائیں بازو کے حکومتی اتحاد کے تحت شام کے جنوب سے جبل الدروز تک پھیلے ہوئے علاقے میں “فوجی آزادی” کی پالیسی اپنانے کا اعلان کیا ہے۔نیتن یاہو نے جمعرات کو ایک ریکارڈ شدہ بیان میں کہاکہ “ہم نے واضح پالیسی طے کی ہے: گولان کی پہاڑیوں سے لے کر جبل الدروز تک جنوبی شام کے علاقے کو فوجی عناصر سے پاک کرنا ، یہ ہماری فرنٹ لائن ہے۔نیتن یاہو نے کہاکہ ہماری دوسری لائن جبل الدروز کے دروزیوں کی حفاظت ہے، جس کا مطلب شام کے صوبہ السویداء میں واقع، 1800 میٹر سے بلند کئی قصبوں اور دیہات پر مشتمل پہاڑی علاقہ ہے، جسے جبل العرب یا جبل حوران بھی کہا جاتا ہے۔انہوں نے دْرزی اقلیت کے محافظ ہونے کے جھوٹے دعوے کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ دوہری حکمت عملی اسرائیل کی پالیسی کے طور پر برقرار رہے گی۔ نیتن یاہو نے کہا، “ہم شام کے جنوب میں فوجی دستوں کی تعیناتی کی اجازت نہیں دیں گے اور جبل الدروز کے دْرزیوں کو نقصان پہنچنے نہیں دیں گے۔اکتوبر 2023 سے فلسطینیوں کے خلاف نسل کشی کرنے والے اسرائیل نے بار ہا اپنی فوجی جارحیت کو جواز دینے کے لیے شام کے جنوب میں ایک حفاظتی پٹی بنانے کی کوششوں سمیت “دْرزی اقلیت کی حفاظت” کے بہانے پیش کیے ہیں۔شام کے معروف دْرز ی رہنماؤں نے ان دعوؤں کو مسترد کرتے ہوئے مشترکہ بیان میں غیر ملکی مداخلت کی مذمت کی اور ملکی سالمیت کی حمایت کا اظہار کیا۔
ریڈ لائن کراس ہونے پر شام میں
فوجی کارروائی جاری رکھیں گے :نیتن یاہو
تل ابیب،18 جولائی (یو این آئی) اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے کہا ہے کہ اسرائیل کی ریڈ لائن کراس ہونے پر شام میں فوجی کارروائی جاری رکھیں گے ۔ ایک بیان میں نیتن یاہو نے کہا کہ گولان پہاڑیوں سے دروز پہاڑوں تک کے علاقے کو فوجی سرگرمیوں سے پاک رکھنا اور دروز برادری کا تحفظ ہماری ریڈ لائن ہے ، جب بھی یہ کراس ہوگی ہم فوجی کارروائی کریں گے ۔ انہوں نے کہا کہ شام کی حکومت نے ان دونوں اصولوں کی خلاف ورزی کی ہے ۔واضح رہے کہ بدھ کو اسرائیلی فوج نے شامی دارالحکومت پر شدید فضائی حملوں میں شامی وزارت دفاع کی عمارت کو نشانہ بنایا تھا۔خبررساں ایجنسی کے مطابق اسرائیل کی جانب سے دمشق میں صدارتی محل کے قریب بھی فضائی حملے کیے گئے ۔ اسرائیل نے مطالبہ کیا تھا کہ دروز قبائل پر حملہ آور شامی فوج فوری طور پر سویدا سے نکل جائے ۔