درکار تعداد سے آٹھ نشستیں کم ، 90% ووٹوں کی گنتی مکمل
اپوزیشن قائد یائر لیپڈ یش اتیدپارٹی کو بادشاہ گر کا موقف حاصل
تل ابیب : اسرائیل میں گذشتہ دو سال کے دوران چوتھی بار انتخابات کا انعقاد ہوا جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ انتخابات کو بھی ایک مذاق بنالیا گیا ہے ۔ اب جبکہ 90% ووٹوں کی گنتی مکمل ہوچکی ہے وہیں یہ نتیجہ سامنے آیا ہے کہ وزیراعظم نیتن یاہو کی دائیں بازو کی پارٹی کو نئی حکومت تشکیل دینے کیلئے آٹھ نشستوں کی مزید ضرورت ہے ۔دوسری طرف نتین یاہو کی ایک حریف جماعت کو گنتی کے بعد مزید ساتھ نشستیں حاصل ہوئی ہیں ، تاہم اب تک قطعی نتائج سامنے نہیں آئے ہیں اور یہ کہا جارہا ہے کہ قطعی نتائج کے بعد ہی یہ معلوم ہوسکتا ہے کہ فلسطینیوں کے اسرائیل سے کیسے تعلقات ہیں ؟ نیتن یاہو نے یہ وعدہ کیا ہے کہ اگر ان کی لیکوڈ پارٹی کو اکثریت حاصل ہوئی تو وہ ملک میں دائیں بازو کی حکومت تشکیل دیں گے ۔ نیتن یاہو اسرائیل کے سب سے زیادہ طویل مدت تک حکومت کرنے والے قائد ہیں ۔ یہاں اس بات کا تذکرہ بھی ضروری ہے کہ سیاسی طور پر چھوٹی سمجھی جانے والی دائیں بازو کی ایک پارٹی یمینااقتدار کے توازن کے معاملہ میں اہم رول ادا کرسکتی ہے ۔ اس پارٹی کی قیادت نیتن یاہو کے سابق وفادار ساتھی نٹفالی بینیٹ کررہے ہیں ۔ تاہم اس پارٹی کو پس و پیش کا سامنا ہے کہ وہ حکومت کی تشکیل کیلئے نیتن یاہو کے ساتھ تعاون کرے یا اپوزیشن جماعتو ں کی جو انہیں ( نیتن یاہو ) اقتدار سونپنے کے مخالف ہیں ۔ منگل کی رات جب رائے دہی کا اختتام ہوا تو مسٹر بینیٹ نے ایک اہم بیان دیتے ہوئے کہا کہ میں وہی کروں گا جو ملک کیلئے بہتر ہوگا ۔ انہوں نے مزید کہا کہ انہوں نے اس سلسلہ میں نیتن یاہو سے صاف صاف کہہ دیا ہے کہ یمیناپارٹی کوئی بھی اگلا قدم اٹھانے سے پہلے قطعی نتائج کا انتظار کرے گی ۔ دریں اثناء منگل کی شب ایک ٹوئیٹ کے ذریعہ نیتن یاہو نے اپنے حامیوں کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ آپ سب لوگوں نے دائیں بازو کو اور ساتھ ہی ساتھ لیکوڈ پارٹی کو میری قیادت میں ایک بڑی کامیابی دلوائی ۔ اب تک لیکوڈ پارٹی سب سے بڑی پارٹی بن کے ابھری ہے جس سے یہ بات تو واضح ہوگئی کہ اسرائیل کی آبادی کی اکثریت کا رجحان دائیں بازو کی جانب ہے اور وہ ملک میں دائیں بازو کی ایک مستحکم حکومت دیکھنا چاہتے ہیں ۔ دوسری طرف اسرائیل کے کلیدی اپوزیشن قائد یائر لیپیڈ جن کی یش اتیدپارٹی نے 17 نشستو ں پر کامیابی حاصل کی ہے نے کہا کہ انہیں اپنی پارٹی کی اس زبردست کامیابی پر فخر ہے ۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کی تشکیل کیلئے انہوں نے متعلقہ بلاک سے تعلق رکھنے والے قائدین سے بات چیت شروع کردی ہے اور وہ چاہتے ہیں کہ اسرائیل میں ایک مستحکم حکومت تشکیل دی جائے ۔ یاد رہے کہ اسرائیل میں اندرون دو سال چوتھے انتخابات میں رائے دہی کا فیصد67.2% رہا جسے نیتن یاہو کی قیادت کیلئے ایک ریفرنڈم قرار دیا جارہا ہے ۔