ایران ۔ 15 مارچ (ایجنسیز) اسرائیلی وزیرِاعظم بنیامن نیتن یاہو کی موت سے متعلق سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی افواہوں نے دنیا بھر میں تجسس پیدا کر دیا ہے۔ صارفین ان کی موجودگی اور صحت کے بارے میں سوالات اٹھا رہے ہیں، تاہم معتبر ذرائع کے مطابق ان افواہوں کی تاحال کوئی سرکاری تصدیق نہیں ہوئی۔یہ قیاس آرائیاں اْس وقت تیز ہو گئیں جب نیتن یاہو کی جانب سے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک ویڈیو جاری کی گئی۔ ویڈیو کے ایک فریم کو لے کر بعض صارفین نے دعویٰ کیا کہ ان کے ہاتھ میں چھ انگلیاں نظر آرہی ہیں، جس کے بعد کچھ لوگوں نے اسے مصنوعی ذہانت (AI) سے تیار کردہ ویڈیو قرار دیتے ہوئے سوال اٹھایا کہ آیا یہ اصل ویڈیو ہے یا نہیں۔اس معاملے پر ایکس کے چیٹ بوٹ گروک (Grok) نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ ویڈیو میں اضافی انگلی دکھائی دینا دراصل کیمرے کے زاویے اور تصویر کے فریم کی وجہ سے پیدا ہونے والا بصری دھوکہ ہے۔ چیٹ بوٹ نے ان افواہوں کو بھی مسترد کردیا جن میں بعض سوشل میڈیا صفحات اور غیر ملکی ذرائع کی جانب سے نیتن یاہو کی موت کی خبریں پھیلائی جا رہی تھیں۔
گروک کے مطابق ایرانی میڈیا اور سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی یہ خبریں غیر مصدقہ اور گمراہ کن ہیں اور متعدد معتبر اداروں نے بھی انہیں غلط قرار دیا ہے۔دوسری جانب نیتن یاہو کے خاندان کے حوالے سے بھی سوشل میڈیا پر بات چیت جاری ہے۔ کچھ صارفین نے نشاندہی کی کہ ان کے بیٹے یائر نیتن یاہو نے 9 مارچ کے بعد سے ایکس پر کوئی نئی پوسٹ نہیں کی، جس کے باعث افواہوں کو مزید تقویت ملی۔ادھر نیتن یاہو کی اہلیہ سارہ نیتن یاہو نے اپنے انسٹاگرام اکاؤنٹ پر ایک انٹرویو کا اقتباس شیئر کیا ہے جس میں انہوں نے کہا کہ ملک کے اقتدار کے مراکز میں ایک طاقتور سیاسی گروہ موجود ہے، تاہم اسرائیل کی اکثریتی عوام سمجھدار اور ہمدرد ہے اور یہی عوامی حمایت انہیں آگے بڑھنے کی طاقت دیتی ہے۔تمام تر قیاس آرائیوں کے باوجود سرکاری سطح پر نیتن یاہو کی موت یا ان کے لاپتہ ہونے سے متعلق کسی بھی خبر کی تصدیق نہیں ہوئی۔ فیکٹ چیک کرنے والے اداروں نے بھی ان دعوؤں کو غلط معلومات اور گمراہ کن سوشل میڈیا پوسٹس کا نتیجہ قرار دیا ہے، تاہم سوشل میڈیا پر اس موضوع پر تجسس اور بحث تاحال جاری ہے۔
نیتن یاہو کو ڈھونڈ کر قتل کرنے
پاسداران انقلاب کی دھمکی
تہران۔15؍مارچ ( ایجنسیز )ایران کے پاسداران انقلاب نے اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کو ڈھونڈ کر قتل کرنے کی دھمکی دی ہے۔پاسداران انقلاب کا کہنا ہے کہ اگر نیتن یاہو اب تک زندہ ہے تو اس کا تعاقب کریں گے، نیتن یاہو کا قتل یا فرار اسرائیل میں بحران کو ظاہر کرتا ہے۔پاسداران انقلاب نے کہا کہ صیہونیوں کے قدم اکھڑ رہے ہیں۔ اسرائیل میں نہ رکنے والی ایمبولینس کی آوازیں ہماری کامیابی کی عکاس ہیں۔ پاسداران انقلاب نے مزید کہا کہ دیوہیکل میزائلوں سے اسرائیل کے صنعتی مراکز کو نشانے پرلے لیا گیا ہے۔ پاسداران انقلاب کے بیان کے مطابق اس کارروائی میں دو ٹن وزنی وارہیڈ والے خرمشہر میزائل، خیبر شکن میزائل، قدر اور عماد میزائل استعمال کیے گئے جبکہ آپریشن وعدہ صادق 4 میں پہلی بار سالڈ فیول اسٹریٹجک ’سجیل‘ میزائل بھی استعمال کیا گیا۔ پاسداران کے مطابق حملوں میں اسرائیلی فضائی کارروائیوں سے متعلق انتظامی اور فیصلہ سازی کے مراکز، فوجی و دفاعی صنعتوں کے اہم انفرااسٹرکچر اور مقبوضہ علاقوں کے وسط میں موجود عسکری مقامات کو نشانہ بنایا گیا۔