نیتن یاہو کی پھر نٹساریم کوریڈور پر خندق کھودنے کی تجویز

   

مقبوضہ بیت المقدس: اسرائیلی اخبار ’یدیعوت احرونوت‘ نے انکشاف کیا ہے کہ اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو نے مذاکراتی ٹیم کو غزہ کی پٹی کو تقسیم کرنے والے نٹساریم کوریڈور قابل قبول خاکہ پیش کرنے کی ذمہ داری سونپی ہے۔ اس سے قبل نٹساریم کوریڈور پر خندق کھودنے کی تجویز ثالث مسترد کر چکے ہیں۔اخبار کے مطابق نیتن یاہو گاڑیوں کے گزرنے سے روکنے کے لیے خندقیں کھودنے اور شمال میں داخل ہونے سے پہلے ان کا جائزہ لینے کی ہدایت دینے کے لیے پر عزم ہیں۔ غزہ کی پٹی میں جنگ بندی کے حوالے سے قاہرہ میں جاری مذاکرات میں یہ اہم نکتہ ہے۔ اس کے باوجود اسرائیل نے نٹساریم کوریڈور کو وسعت دی ہے۔ یہ کوریڈور غزہ کی پٹی کو جنوبی اور شمالی حصے میں تقسیم کرتا ہے۔اسرائیلی اخبار ’یدیعوت احرونوت‘ نے پیر کو رپورٹ کیا کہ سیٹ لائٹ تصاویر سے ظاہر ہوتا ہے کہ کوریڈور پر اسرائیلی فوج چار بڑے فوجی مقامات قائم کرنے کے لیے اس کوریڈور کو وسعت دینے کا ارادہ رکھتی ہے۔ اخبار نے بھی بتایا کہ یہ اڈے دو ریزرو بریگیڈز کے سینکڑوں فوجیوں کو قیام کی اجازت دیں گے۔ یہ فوجی انسانی امداد کی ترسیل کے لیے غزہ کے ساحل پر امریکی فوج کے تعمیر کردہ سمندری گھاٹ کی تعمیر کو محفوظ بنانے کے ذمہ دار بھی ہوں گے۔نٹساریم کوریڈور کو توسیع دینے کا عمل بتا رہا ہے کہ اسرائیل اس کوریڈور سے دستبردار ہونے کو تیار نہیں ہے۔ غزہ میں اسرائیل کی فوجی موجودگی دو ہفتے قبل دوحہ میں شروع ہونے والے اور گزشتہ ہفتے قاہرہ میں دوبارہ ہونے والے مذاکرات میں رکاوٹ بننے والے نکات میں سے ایک اہم نکتہ تھا۔ حماس اور مصر دونوں نے فلا ڈیلفی کوریڈور (صلاح الدین کوریڈور)، نٹساریم کوریڈور اور رفح کراسنگ میں اسرائیلی افواج کے موجود رہنے کو مسترد کر دیا ہے۔ پیر کو وائٹ ہاؤس کی قومی سلامتی کے ترجمان جان کربی نے اعلان کیا کہ غزہ میں جنگ بندی اور یرغمالیوں سے متعلق معاہدے تک پہنچنے کے لیے قاہرہ میں جاری مذاکرات آئندہ چند دنوں کے دوران ورکنگ گروپ کی سطح پر جاری رہیں گے تاکہ بعض مخصوص مسائل کو حل کیا جا سکے۔ ایک آن لائن بریفنگ میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے جان کربی نے اس خیال کو مسترد کردیا کہ مذاکرات ختم ہو گئے ہیں۔ اس کے برعکس انہوں نے کہا کہ مذاکرات تعمیری تھے۔ باخبر ذرائع نے اتوار کو انکشاف کیا تھا کہ دونوں فریقوں کے درمیان کچھ نکات حل طلب ہیں۔ ان میں فلاڈیلفی کوریڈور، نٹساریم کوریڈور میں اسرائیلی فوج کی موجودگی شامل ہے۔ تاہم تکنیکی ٹیمیں بقایا مسائل پر بات چیت جاری رکھے ہوئے ہیں۔امریکہ، مصر اور قطر کی ثالثی میں ہونے والے ان مذاکرات کے اہم نکات میں فلاڈیلفی کوریڈور (صلاح الدین کوریڈور) میں اسرائیلی موجودگی شامل ہے۔ یہ کوریڈور مصر کے ساتھ غزہ کی پٹی جنوبی سرحد کے ساتھ 14.5 کلومیٹر لمبی زمین کی ایک تنگ پٹی ہے۔ ثالثوں نے فلاڈیلفی کوریڈور اور نٹساریم کوریڈور پر اسرائیلی افواج کی موجودگی کے لیے متعدد متبادل تجویز کیے؛ لیکن مصری ذرائع نے تصدیق کی ہے کہ دونوں فریقوں نے ان میں سے کسی کو بھی قبول نہیں کیا ہے۔