جالندھر:پنجاب کے وزیر اعلی بھگونت سنگھ مان نے آج اعلان کیا کہ ان کی حکومت 27 جولائی کو نئی دہلی میں وزیر اعظم نریندر مودی کی طرف سے بلائی گئی نیتی آیوگ میٹنگ کا بائیکاٹ کرے گی۔ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ نے کہا کہ یہ فیصلہ ملک کے لیے اہم کردار ادا کرنے کے باوجود مرکزی بجٹ میں پنجاب کو فنڈز نہ دینے کی وجہ سے کیا گیا ہے ۔ انہوں نے مرکزی بجٹ کو ‘کرسی بچاؤ بجٹ’ قرار دیا اور مرکزی حکومت پر غیر بی جے پی کی حکمرانی والی ریاستوں کے خلاف سیاسی لالچ دینے کا الزام لگایا۔ بھگونت سنگھ مان نے افسوس کا اظہار کیا کہ بجٹ میں پنجاب کو نظر انداز کیا گیا اور وزیر خزانہ کے 80 کروڑ لوگوں کو راشن دینے کے اعلان میں بھی پنجاب کا ذکر نہیں کیا گیا۔ وزیراعلیٰ نے اس بات پر زور دیا کہ پنجاب کی 532 کلومیٹر طویل بین الاقوامی سرحد ہے اور پنجاب ہمیشہ ملکی مفادات کے لیے کھڑا رہا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ اب بھی مرکزی حکومت نے سڑکیں بند کر کے ریاست پر بوجھ ڈال دیا ہے ۔انہوں نے دینا نگر اور پٹھانکوٹ حملوں کے دوران فوجی بھیجنے کے لئے مرکزی حکومت کی طرف سے عائد کئے گئے 7.5 کروڑ روپے کے مالی بوجھ کو معاف کرنے کی اپنی کوششوں کو بھی یاد کیا۔ وزیر اعلیٰ نے یقین دلایا کہ ان کی حکومت ریاست کو معاشی طور پر قابل عمل بنانے کے لیے اپنے مالی وسائل کو متحرک کرے گی۔ انہوں نے پنجاب کو خصوصی درجہ دینے کا مطالبہ کیا۔ جدوجہد آزادی میں پنجاب کی شراکت اور ہندوستان کے غذائی ذخیرے میں اس کے کردار پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے کہا کہ ریاست کے کسانوں کو نظر انداز کیا گیا اور انہیں روکنے کے لیے رکاوٹیں کھڑی کی گئیں۔وزیراعلی نے مرکزی حکومت پر ریاست کے 10,000 کروڑ روپے روکنے اور گورنر کی طرف سے روزانہ کی بنیاد پر معمولی مسائل اٹھانے پر تنقید کی۔ انہوں نے یقین دلایا کہ امن و امان کو یقینی بنانے کے لیے ہر ممکن کوشش کی جائے گی۔ گورنر پر زور دیا کہ وہ معمولی مسائل کو اٹھا کر تنازعہ پیدا نہ کریں۔مرکزی بجٹ میں غیر بی جے پی ریاستوں کے ساتھ ناانصافی کو لیکر کئی ریاستیں مرکزی حکومت کے خلاف ہوگئی ہیں اور نیتی آیوگ کے اجلاس میں شرکت نہ کرنے کا اعلان کیا گیا ہے ۔ چیف منسٹر پنجاب بھگونت مان کے علاوہ تلنگانہ کے چیف منسٹر ریونت ریڈی نے بھی نہ صرف تلنگانہ بلکہ جنوبی ریاستوں کے ساتھ مرکزی بجٹ میں نامناسب سلوک کرنے کا الزام عائد کرتے ہوئے نیتی آیوگ کے اجلاس میں شرکت نہ کرنے کا اعلان کیا ۔ جنوبی ہند کی ریاستوں کے چیف منسٹرس اور دیگر کے ساتھ مرکزی حکومت کے خلاف مرکزی بجٹ میں ناانصافیوںپر احتجاج کا بھی اعلان کیا گیا ہے ۔ غیر بی جے پی ریاستوں کا الزام ہے کہ بجٹ میں بہار اور اور آندھراپردیش پر بڑی مہربانیاں کی گئیں ۔