نیدرلینڈز میںغزہ کے شہید بچوں سے اظہار یکجہتی کا منفرد انداز

,

   

بچوں کے 8 ہزار جوتے سڑک پر رکھ کر احتجاج‘عالمی بے حسی کو آئینہ دکھانے کی کوشش

روٹرڈیم: نیدرلینڈز میں غزہ کے شہید بچوں سے اظہار یکجہتی کے لیے بچوں کے 8 ہزار جوتے رکھ کر احتجاج کیا گیا۔مقامی تنظیم نے ڈچ شہر روٹرڈیم کے مرکزی چوک پر بچوں کے 8 ہزار جوتے رکھ کر عالمی بے حسی کو آئینہ دکھانے کی کوشش کی۔خیال رہے کہ اسرائیل نے وحشیانہ بمباری سے 75 روز میں غزہ کے 8 ہزار سے زیادہ بچے شہید کر دیے ہیں۔مجموعی شہدا کی تعداد 20 ہزار سے زیادہ ہوچکی ہے جن میں 8 ہزار سے زائد بچے اور 6 ہزار سے زائد خواتین شامل ہیں۔اقوام متحدہ کے ادارہ برائے اطفال یونیسیف کا کہنا ہیکہ غزہ میں پینے کا صاف پانی نہ ہونے کی وجہ سے آئندہ دنوں میں متعدد بچوں کی ہلاکت کا خدشہ ہے۔ یونیسیف کے مطابق غزہ میں بچوں کو ضرورت کا صرف 10 فیصد پانی میسر ہے، غزہ میں بچے اور ان کے خاندان غیرمحفوظ ذرائع سے آلودہ پانی استعمال کرنے پر مجبور ہیں۔یونیسیف کا کہنا ہیکہ بچوں کو صاف پانی کی قابل ذکر فراہمی زندگی موت کا مسئلہ ہے،صاف پانی کی فراہمی نہ ہونے سے بچوں کے مرنے اور امراض پھیلنے کا بھی خدشہ ہے۔ریڈکراس نے غزہ تنازعہ کو بین الاقوامی برادری کی اخلاقی ناکامی قرار دیا ہے۔ایک بیان میں ریڈکراس کا کہنا تھا کہ غزہ میں انتہا کی حد تک درپیش مصائب کو روکنے میں ناکامی کا اثر صرف غزہ پر نہیں دیگر نسلوں پر بھی پڑیگا۔ادارے کے مطابق غزہ کی 90 فیصد سے زیادہ آبادی بے گھر ہوچکی ہے۔ 60 فیصد سے زیادہ انفرا اسٹرکچر تباہ ہوگیا ہے۔ غزہ کے لوگوں کی جبری بے دخلی سب کی آنکھوں کے سامنے ہو رہی ہے اور غزہ کی تباہی اتنی حیران کن ہے جس کی کوئی مثال نہیں ملتی۔