طبی تعلیمی شعبہ میں بڑے پیمانے پر اصلاحات ، ایلوپیتھی کی اجازت سے متعلق حساس دفعہ حذف
نئی دہلی۔ 10 جون (سیاست ڈاٹ کام) نومنتخب 17 ویں لوک سبھا کے 17 جون سے شروع ہونے والے پہلے ہی اجلاس میں حکومت نے ایک کلیدی بل پیش کرنے کا منصوبہ بنایا جس کا مقصد طبی تعلیم (میڈیکل ایجوکیشن) کے شعبہ میں بڑے پیمانے پر اصلاحات کرنا ہے۔ نیشنل میڈیکل کمیشن (این ایم سی) بل جو نومبر 2017ء میں متعارف کی گئی تھی، 16 ویں لوک سبھا تحلیل ہونے کے بعد ازخود منسوخ ہوگئی۔ عام انتخابات کے انعقاد اور نئی حکومت کے قیام کے بعد مرکزی وزارت صحت کو اس ضمن میں ازسرنو قانون سازی کا عمل شروع کرنا ہوگا اور اس مقصد کیلئے ایک تازہ مسودۂ قانون بہت جلد کابینہ کے اجلاس میں پیش کرنا ہوگا۔ اس عمل سے وابستہ ایک عہدیدار نے کہا کہ ’این ایم سی بل کا مسودہ فی الحال وزارت قانون کی منظوری کا منتظر ہے۔ 2017ء کے دوران پارلیمنٹ کے ایوان زیریں میں یہ بل پیش کیا گیا تھا جس کا مقصد 1956ء کے میڈیکل کونسل آف انڈیا کی جگہ لینا تھا اور اس میں عصری حالات سے ہم آہنگ تقاضوں کی تکمیل کرنا تھا۔ اس میں میڈیکل پریکٹیشنرس کو متبادل کے طور پر ایلوپیتھی دوائیں تجویز کرنے کی اجازت دینے سے متعلق ایک حساس دفعہ بھی شامل تھی جس پر طبی معالجین کی برادری کے بڑے پیمانے پر احتجاج کے بعد اس مسودۂ قانون کو پارلیمانی اسٹانڈنگ کمیٹی کے متعلقہ محکمہ سے رجوع کردیا گیا تھا۔ پارلیمانی پیانل نے مارچ 2018ء میں اپنی سفارشات پیش کی تھیں اور وزارت صحت نے حساس اور متنازعہ دفعہ کو حذف کردیا تھا ۔ علاوہ ازیں چند دوسری تبدیلیاں بھی کی گئی تھیں۔ عہدیدار نے کہا کہ ’سرکاری ترمیمات کو کابینہ کی منظوری حاصل ہوچکی تھی اور اس کو علیحدہ طور پر لوک سبھا سے رجوع کردیا گیا تھا۔ اب این ایم سی بل دوبارہ مدون اور مرتب کی جارہی ہے جس میں پارلیمانی اسٹانڈنگ کمیٹی کی طرف سے تجویز کردہ سفارشات کو بھی شامل کیا گیا ہے۔ اس بل کا مسودہ بہت جلد کابینہ سے رجوع کردیا جائے گا‘۔ اس دوران میڈیکل کونسل آف انڈیا کے منتخب ادارہ کی میعاد بھی ختم ہورہی ہے ۔ مرکز نے ایم سی آئی کو تحلیل کردیا تھا اور گزشتہ سال ستمبر میں آرڈیننس جاری کیا گیا تھا۔
