نیشنل کانفرنس کی 3، بی جے پی کی ایک نشست پر پوزیشن مستحکم

   

کشمیر میں آج راجیہ سبھا انتخابات

سری نگر،23اکتوبر(یو این آئی) جموں و کشمیر کے مرکزکے زیرانتظام علاقہ بننے کے بعد پہلی مرتبہ ہونے والے راجیہ سبھا انتخابات جمعہ کو منعقد ہورہے ہیں۔ سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ نیشنل کانفرنس تین نشستوں پر واضح سبقت رکھتی ہے جبکہ بی جے پی ایک نشست پر مضبوط پوزیشن میں ہے ۔ تاہم، کانگریس کے ارکان اسمبلی کی غیرحاضری اور پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (پی ڈی پی) کے ووٹنگ میں حصہ نہ لینے کے امکانات سے انتخابی منظر مزید دلچسپ بن گیا ہے ۔ چار راجیہ سبھا نشستوں کے لیے الیکشن کمیشن نے تین علیحدہ نوٹیفکیشنز جاری کیے ہیں۔ پہلی نشست پر نیشنل کانفرنس کے چودھری محمد رمضان کا مقابلہ بی جے پی کے علی محمد میر سے ہوگا۔ دوسری نشست پر این سی کے سجاد کچلو بی جے پی کے راکیش مہاجن کے خلاف میدان میں ہیں، جبکہ تیسرے نوٹیفکیشن کے تحت دو نشستوں پر نیشنل کانفرنس کے پارٹی خزانچی جی ایس (شمّی) اوبرائے اور عمران نبی ڈار کا مقابلہ بی جے پی کے جموں و کشمیر یونٹ کے صدر ست شرما سے ہوگا۔ ذرائع کے مطابق88 رکنی اسمبلی میں نیشنل کانفرنس کی قیادت والا حکومتی اتحاد 54 اراکین پر مشتمل ہے ۔ جن میں 41 نیشنل کانفرنس، 6 کانگریس، ایک سی پی ایم اور 6 آزاد ارکان شامل ہیں۔ اعداد و شمار کے لحاظ سے نیشنل کانفرنس کے تین امیدوار باآسانی کامیاب ہوسکتے ہیں، تاہم چوتھی نشست پر مقابلہ نہایت سخت ہے ۔ بی جے پی کے 28 ارکانِ اسمبلی ہیں اور پارٹی نے اس نشست پر اپنے ریاستی صدر ست شرما کو امیدوار نامزد کر کے اس دوڑ میں حکمتِ عملی کے ساتھ قدم رکھا ہے ۔ ست شرما کو ایک اہم برتری اُس وقت ملی جب سجاد غنی لون کی قیادت والی پیپلز کانفرنس نے گزشتہ ہفتے راجیہ سبھا انتخابات سے غیرحاضری کا اعلان کیا۔ نیشنل کانفرنس نے جمعرات کے روز اپنے تمام ارکان کیلئے وہپ جاری کیا تاکہ ووٹنگ کے دوران پارٹی نظم و ضبط برقرار رہے اور سبھی ارکان پارٹی امیدواروں کے حق میں ووٹ ڈالیں۔ وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے جمعرات کو میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ وہ پرامید ہیں کہ نیشنل کانفرنس چاروں نشستوں پر کامیابی حاصل کرے گی تاہم اس کیلئے ضروری ہے کہ تمام غیر بی جے پی ووٹ نیشنل کانفرنس کے امیدواروں کے حق میں جائیں۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے اتحادی، سی پی ایم اور آزاد اراکین بھرپور تعاون کر رہے ہیں اور جوش و خروش دیکھ کر لگتا ہے کہ ہم کامیابی حاصل کریں گے ۔ البتہ چہارشنبہ کو نیشنل کانفرنس کی جانب سے بلائی گئی اتحادی جماعتوں کی میٹنگ میں کانگریس ارکان کی عدم شرکت نے سیاسی حلقوں میں سوال کھڑے کر دیئے ہیں۔
عمر عبداللہ نے اس پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا، ‘کانگریس کا اپنا طریقہ کار ہے ۔ اُن کی قیادت دہلی سے ہائی کمانڈ کے اشارے کا انتظار کرتی ہے ، جب کہ ہم یہاں خود فیصلے کرتے ہیں۔ اس میں کوئی نئی بات نہیں ہے ۔’ انہوں نے مزید کہا کہ کانگریس نے بارہا واضح کیا ہے کہ وہ بی جے پی کو سپورٹ نہیں کرے گی۔ ان کے اجلاس یا میٹنگز پر کسی کو اعتراض نہیں ہونا چاہئے ۔ دہلی سے جو اشارہ آئے گا وہ یقیناً بی جے پی کے حق میں نہیں ہوگا۔ وزیر اعلیٰ نے سی پی ایم کے رہنما محمد یوسف تاریگامی اور آزاد اراکین کا شکریہ ادا کیا جنہوں نے اتحادی اجلاس میں شرکت کی۔ جب ان سے پی ڈی پی کے موقف کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے بتایا کہ پارٹی صدر محبوبہ مفتی نے اب تک کوئی باضابطہ اعلان نہیں کیا ہے ۔ ہمارے امیدوار شمّی اوبرائے نے محبوبہ مفتی سے ملاقات کی ہے اور ان سے نیشنل کانفرنس کے حق میں ووٹ ڈالنے کی درخواست کی ہے ۔ اس سے قبل صدرِ نیشنل کانفرنس ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے بھی انہیں فون کیا تھا۔ محبوبہ جی نے یقین دلایا ہے کہ وہ پارٹی رہنماؤں سے مشورہ کرنے کے بعد درست فیصلہ کریں گی۔ واضح رہے کہ جموں و کشمیر کی چاروں راجیہ سبھا نشستیں فروری 2021 سے خالی ہیں، جب غلام نبی آزاد اور نذیر احمد لاوے اپنی مدت پوری کرچکے تھے ۔ دیگر دو ارکان، فیاض احمد میر اور شمشیر سنگھ منہاس بھی اسی سال 10 فروری کو سبکدوش ہوئے تھے ۔ اب تقریباً چار برس بعد ہونے والے ان انتخابات کو جموں و کشمیر کی سیاسی تاریخ میں ایک نیا موڑ سمجھا جا رہا ہے ، جہاں نیشنل کانفرنس کے لئے تین نشستوں پر فتح یقینی دکھائی دے رہی ہے ، جبکہ چوتھی نشست پر پی ڈی پی کی جانب سے غیر حاضر رہنے سے بی جے پی کے ست شرما کے جیتنے کے امکانات روشن ہوگئے ہیں۔