نیشنل کانفرنس کے نومنتخب ارکان کا آج اجلاس‘ چیف منسٹر کا انتخاب ہوگا

,

   

کشمیر کے ریاست کے درجہ کی بحالی پارٹی کی اولین ترجیح‘یہ سب کی حکومت ہوگی‘عمر عبداللہ کی پریس کانفرنس

سرینگر: نینشنل کانفرنس کے نو منتخب ارکان کا جمعرات کو اجلاس منعقد ہوگا جس میں چیف منسٹر کے نام کو قطعیت دینے اور دیگر امور پر تبادلہ خیال کی توقع ہے۔ اجلاس میں اتحادی 2018 کے بعد سے جموں و کشمیر کے پہلے چیف منسٹر کا انتخاب کریں جبکہ تشکیل حکومت کا دعویٰ پیش کرنے اور ایل جی (لیفٹیننٹ گورنر) سے حلف برداری کی تاریخ طے کرنے کی درخواست کا بھی فیصلہ کیا جائے گا۔ پارٹی قائدر عمر عبداللہ نے ریاست میں نیشنل کانفرنس اورکانگریس اتحاد کی شاندار جیت کے بعد آج یہ بیان دیا ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ وہ چاہتے ہیں کہ اس عمل کو جلد از جلد مکمل کیا جائے کیونکہ یہ خطہ 2018 سے منتخب حکومت کے بغیر ہے۔ وقت آگیا ہے کہ ہم دوبارہ کام پر لگ جائیں۔ انہوں نے کہا کہ چیف منسٹر کے انتخاب کا فیصلہ قانون سازوں کو کرنا ہے۔ یہ اتحاد کا فیصلہ ہے۔ میں اپنے والد سے بہت پیار کرتا ہوں اور میں اس حمایت کے لئے بہت شکر گزار ہوں جو انہوں نے مجھے کل دکھایا لیکن آخر میں یہ کہنا قانون سازوں کا فیصلہ ہونا چاہئے ۔ یہی طریقہ کار ہے جس پر عمل کرنا ہے اور یہی کیا جائے گا۔عمر عبداللہ نے کہا کہ آئندہ چند دنوں میں جو بھی چیف منسٹرٰ حلف اٹھائے گا، اس کی قانون سازی اور حکومت سے متعلق ترجیحات ہو ں گی۔ انہوں نے آنے والی حکومت کو اپنی تجویز میں مزید کہا کہ کابینہ کا پہلا کام ریاست کا درجہ بحال کرنے کی قرارداد پاس کرنا ہوگا اور چیف منسٹر اس کے ساتھ دہلی کا سفر کریں اور ملک کی سینئر قیادت سے ملاقات کریں اور پوچھیںگے کہ وہ اپنا وعدہ پورا کریں۔ ریاست کے لوگ فیصلہ سازی کے عمل کا حصہ محسوس کرنا چاہتے ہیں ‘انہیں ساتھ لے کر چلنا ہماری ذمہ داری ہے۔ میں اس حقیقت سے بھی بخوبی واقف ہوں کہ کشمیر اور جموں کے درمیان شدید تقسیم ہے۔ اس لیے آنے والی حکومت پر جموں کے لوگوں کو ملکیت کا احساس دلانے کی بڑی ذمہ داری ہوگی۔انہوں نے کہا کہ نئی حکومت این سی اتحاد اور ان کو ووٹ دینے والوں کی نہیں ہوگی بلکہ جموں و کشمیر کے ہر فرد کے لئے ایک حکومت ہوگی ۔انہوں نے اس بات کا اعادہ کیا کہ ریاست کے درجہ کی بحالی پر ان کا موقف تبدیل نہیں ہوگا۔ عبداللہ نے آئین کے آرٹیکل 370 کا حوالہ دیا جسے 2019 میں جموں و کشمیر کی نیم خود مختار حیثیت کو ختم کرنے کے لیے منسوخ کر دیا گیا تھااور کہا کہ انہوں نے کبھی نہیں کہا کہ وہ اس معاملے پر خاموش رہیں گے یا یہ کوئی مسئلہ نہیں ہے۔ لیکن ہم لوگوں کو بے وقوف بنانے کے لیے تیار نہیں ہیں۔ میں نے ہمیشہ کہا ہے کہ آرٹیکل 370 کو ختم کرنے والوں سے اسے واپس حاصل کرنے کی امید رکھنا حماقت ہے۔ یہ لوگوں کو دھوکہ دینے کے مترادف ہے۔انہوں نے کہا کہ وہ اس مسئلے کو زندہ رکھیں گے۔ ہمیں امید ہے کہ ایک دن حکومت بدلے گی، وزیر اعظم بدلیں گے اور ایک ایسی حکومت آئے گی جس کے ساتھ ہم اس مسئلے پر بات کر سکیں گے اور جموں و کشمیر کے لیے کچھ حاصل کر سکیں گے۔