حیدرآباد ۔16 فبروری ( سیاست نیوز) نیلوفر ہاسپٹل حیدرآباد میں سفارشات کے بغیر روزانہ تقریباً 1000 مریضوں کو ہائی ۔ پروٹین ڈائیٹ سربراہ کرنے کی تقریباً تین ماہ قبل شکایتوں کے سامنے آنے کے بعد اس سلسلہ میں ایک تفصیلی تحقیقات شروع کی گئی ۔ نومولود بچوں کی ماں اور حاملہ خواتین کو ہائی ۔ پروٹین ڈائیٹ کی ضرورت ہوتی ہے اور انہیں تغذیہ بخش غذا کی فراہمی کو یقینی بنانے کیلئے ایک چارٹ پر عمل کیا جاتا ہے جبکہ فوڈ سپلائی کنٹراکٹر کی جانب سے اس کیس میں تمام مریضوں کو ہائی ۔ پروٹین غذا سربراہ کی جارہی تھی جس سے ہر دن ہر مریض پر 16روپئے کا اضافی خرچ ہورہا تھا ۔ اس طرح یہ اضافی رقم فی ماہ 2.5کروڑ روپئے تک ہوتی ہے جسے کنٹراکٹر نے اس عمل میں حاصل کیا ہے ۔ اس اسکام کی انکوائری کمیٹی کی جانب سے ایک رازداری کی رپورٹ میں توثیق کی گئی ہے ۔ جسے چند دن قبل ہیلت اتھاریٹیز کو پیش کیا گیا ہے ۔ بے قاعدگیوں اور بدعنوانیوں کی شکایتوں کے بعد پانچ ممبرس کی ایک ٹیم کو جس میں ڈائٹیشنس شامل ہیں ۔ ڈائرکٹر میڈیکل ایجوکیشن ڈاکٹر رمیش ریڈی کی جانب سے تشکیل دیا گیا تھا اور اس کی رپورٹ راست طور پر اسٹیٹ ہیلت سکریٹری کو پیش کی گئی ۔ ایک سینئر عہدیدار نے کہا کہ اس رپورٹ میں اسکام اور غذا کیلئے دوگنا رقم کی ادائیگی کو ظاہر کیا گیا ہے اور کرپشن اور بدعنوانیوں کیلئے ساز باز بھی بتایا گیا ہے ۔کنٹراکٹر کو برخواست کردینے کی اس رپورٹ میں سفارش کیگئی ہے اور دیگر تمام سرکاری دواخانوں میں غذا پر نظر ثانی کرنے کی بھی سفارش کی گئی ہے ۔ دراصل اس اسکام کے بارے میں تقریباً ایک سال تک معلوم نہیں ہوا ۔ ہاسپٹل کے ذرائع نے کہا کہ حاملہ خواتین اور دودھ پلانے والی ماؤں کو ہائی پروٹیشن ڈائیٹ کی سفارش کی جاتی ہے اور تمام مریضوں کو اس کی ضرورت نہیں ہوتی ہے لیکن کنٹراکٹر کی جانب سے اسے پوچھے بغیر تمام مریضوں کیلئے ہائی ۔ پروٹین غذا سربراہ کی جارہی تھی ۔ ریگولر غذا پر 40روپئے کا خرچ آتا ہے جبکہ ہائی پروٹین ڈائیٹ پر 56 روپئے آرگیہ شری کے فنڈس اور ہاسپٹل فنڈس سے بھی کنٹراکٹر کو دوگنی رقم ادا کرنے سے متعلق مسائل ہیں ۔