ماں سے وائرس انفیکشن، بچوں کے بارے میں والدین کو چوکسی کا مشورہ
حیدرآباد۔ ملک میں ماہرین نے کورونا کی امکانی تیسری لہر میں بچوں کے متاثر ہونے کا اندیشہ ظاہر کیا ہے ایسے میں بچوں کے علاج سے متعلق حیدرآباد کے نامور نیلوفر ہاسپٹل میں 9 نوزائدہ بچے کورونا سے متاثر پائے گئے ہیں۔ یہ وائرس ان کی ماں سے منتقل ہونے کا اندیشہ ظاہر کیا گیا۔ کورونا کا شکار 9 نوزائدہ بچوں میں ایک کی حالت تشویشناک بتائی جاتی ہے۔ ہاسپٹل کے ذرائع نے بتایا کہ پہلی لہر میں حاملہ خواتین میں کورونا کی علامتیں انتہائی کمی تھیں اور نوزائدہ بچوں میں وائرس منتقل نہیں ہوا تھا جبکہ دوسری لہر میں حاملہ خواتین کے کورونا سے متاثر ہونے کے معاملات منظرعام پر آئے۔ علاج کے دوران کئی نوزائدہ بچوں میں وائرس کی منتقلی کو روکنے میں کامیابی حاصل ہوئی تاہم دوسری لہر میں 9 ایسی خواتین کی ڈیلیوری ہوئی جن کے بچہ میں کورونا وائرس پایا گیا۔ یہ الگ بات ہے کہ کمسن بچوں میں وائرس کی نوعیت خطرناک نہیں ہے اور علاج کے ذریعہ مکمل صحت یاب ہوسکتے ہیں۔ ڈاکٹرس کے مطابق گذشتہ تین ہفتوں کے دوران کورونا سے متاثرہ بچوں کے علاوہ دیگر امراض کا شکار بچوں سے نمٹنے میں خصوصی ٹیم مصروف ہے۔ ڈاکٹرس نے امید ظاہر کی ہے کہ تمام نوزائدہ بچے جلد صحت یاب ہوجائیں گے۔ بتایا جاتا ہے کہ ڈیلیوری کے فوری بعد 9 بچوں کا کورونا ٹسٹ منفی پایا گیا لیکن ایک ہفتہ یا دوسرے ہفتہ میں کورونا کی علامات ظاہر ہونے لگیں۔ نوزائدہ بچوں کو کسی عارضہ کی شکایت کے ساتھ ہاسپٹل رجوع کیا جاتا ہے کہ تو ڈاکٹرس پہلے کورونا ٹسٹ کرارہے ہیں تاکہ پیدائش کے دو ہفتے بعد کورونا کی علامات سے متعلق امکانات کا جائزہ لیا جاسکے۔ بتایا جاتا ہے کہ بعض بچوں کا ٹسٹ پازیٹیو آرہا ہے جبکہ دیگر بچوں کی عوارض دوسرے ہیں۔ ڈاکٹرس نے مشورہ دیا ہے کہ نوزائدہ بچوں کو کورونا سے بچانے کیلئے ماؤں کو سخت چوکسی کی ضرورت ہے۔ ماں کی خدمت کرنے والے افراد کو ماسک پہننا چاہیئے اور انہیں وقفہ وقفہ سے ہاتھ صاف کرنے ہوں گے۔ ماؤں کی تیمار داری کرنے والوں سے نوزائدہ بچوں کو وائرس جلد متاثر کرسکتا ہے۔ نیلوفر ہاسپٹل میں کورونا سے بچاؤ کیلئے ماؤں میں شعور بیدار کیا جارہا ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ کورونا کے آغاز کے بعد سے ابھی تک 30 سے زائد بچوں کو تنفس کی شکایت پر علاج کرتے ہوئے مکمل صحت مند کیا گیا ہے۔ ڈاکٹرس کا کہنا ہے کہ تیسری لہر کے تعلق سے ماہرین کے اندیشوں پر والدین کو احتیاطی تدابیر اختیار کرنی ہوں گی۔