نیمیسولائیڈ پین کلر کی زیادہ ڈوز پر فوری پابندی ، مرکز کا فیصلہ

   

Ferty9 Clinic

نئی دہلی۔ 31 ڈسمبر (ایجنسیز) مرکزی حکومت نے صحتِ عامہ کے تحفظ کے پیشِ نظر معروف پین کلر دوا نیمیسولائیڈ کی زیادہ ڈوز والی تیاری اور فروخت پر پابندی عائد کر دی ہے۔ صحت کے شعبے سے وابستہ حکام کے مطابق منہ کے ذریعے استعمال کی جانے والی 100 ایم جی یا اس سے زائد ڈوز پر مشتمل نیمیسولائیڈ ادویات کی تیاری، فروخت اور تقسیم فوری طور پر بند کرنے کے احکامات جاری کئے گئے ہیں۔اس فیصلہ سے قبل ڈرگ ٹیکنیکل ایڈوائزری بورڈ سے مشاورت کی گئی، جس کے بعد مرکزی وزارتِ صحت نے باضابطہ نوٹیفکیشن جاری کیا۔ وزارتِ صحت نے واضح کیا کہ 100 ایم جی سے زائد ڈوز والی نیمیسولائیڈ انسانی صحت کے لئے خطرناک ثابت ہو سکتی ہے، جبکہ اس کے محفوظ متبادل ادویات بھی دستیاب ہیں، اسی لئے اس پر پابندی لگائی گئی ہے۔حکام کے مطابق یہ پابندی زیادہ ڈوز والی نیمیسولائیڈ پر لاگو ہوگی، تاہم کم ڈوز فارمولا حسبِ سابق دستیاب رہے گا۔ نیمیسولائیڈ ایک نان اسٹرائیڈل اینٹی انفلیمیٹری دوا (NSAID) ہے، جس کے مضر اثرات بالخصوص جگر پر منفی اثرات کے خدشات پر پہلے ہی ماہرین خبردار کرتے رہے ہیں۔مرکزی حکومت کے اس فیصلہ کے بعد نیمیسولائیڈ پر مبنی پین کلر تیار کرنے والی فارما کمپنیوں کو اپنی پیداوار فوری طور پر روکنی ہوگی، جبکہ مارکیٹ میں موجود زیادہ ڈوز والی ادویات کو واپس (ریکال) کیا جائے گا۔ حکومت اس سے قبل بھی صحتِ عامہ کے تحفظ کے لئے بعض زیادہ ڈوز ادویات پر پابندیاں عائد کر چکی ہے۔