سلی گڑی: مغربی بنگال میں ایک بار پھر سنگور تنازعہ کی گونج سنائی دی۔ ریاست کی وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی نے دعویٰ کیا ہے کہ صنعتی گروپ ٹاٹا کو کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا-مارکسسٹ (سی پی آئی-ایم) نے ریاست سے باہر نکال دیا تھا۔ٹاٹا گروپ نے اپنے نینو پروجیکٹ کے حصے کے طور پر چھوٹی کاریں بنانے کے لیے فیکٹری کے لیے زمین کی مبینہ منتقلی پر پرتشدد مظاہروں کے بعد 2008 میں اپنا پروجیکٹ واپس لے لیا تھا۔بدھ کو کاواکلی گراؤنڈ میں وجے سمیلن کے دوران ایک اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے ممتا بنرجی نے سی پی آئی (ایم) پر اس معاملے پر جھوٹ بولنے کا الزام لگایا اور کہاکہ میں نے ٹاٹا کو سنگور سے نہیں نکالا، یہ سی پی آئی (ایم) نے کیا تھا۔’’دریں اثنا، سنگور تنازعہ پر ممتا بنرجی کے دعوے پر رد عمل ظاہر کرتے ہوئے سی پی آئی (ایم) کے ریاستی سکریٹری محمد سلیم نے وزیراعلی کے بیان کو “جھوٹ کا پلندہ” قرار دیا اور کہا کہ ممتا بنرجی کو ‘مشٹھ شری’ ایوارڈ سے نوازا جانا چاہیے ۔انہوں نے کہا کہ ممتا بنرجی نے ملک کے مغربی، جنوبی اور شمالی حصوں میں لابیوں کے ساتھ پرتشدد ایجی ٹیشن کی قیادت کی تھی۔ اس کے ساتھ ہی بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے رہنماؤں راجناتھ سنگھ، سشما سوراج اور ماؤ نوازوں نے ہگلی ضلع کے سنگور میں قائم ہونے والی نینو فیکٹری کو تباہ کر دیا تھا۔انہوں نے سوشل میڈیا پر کہاکہ ‘‘اب وقت آگیا ہے کہ بنگال کے لوگوں کو پنچایت سے لوک سبھا تک اپنے نمائندوں کا انتخاب کرتے وقت زیادہ محتاط رہنا چاہئے ۔