نیوزی لینڈ اور افریقہ میں آج طاقتور بیٹنگ کا مقابلہ متوقع

   

پونے۔ ایک فریق نے قریبی شکست کی اذیت کو برداشت کیا اور دوسرے نے ایک زبردست سنسنی خیز مقابلے میں فتح کا جوش محسوس کیا لیکن جب چہارشنبہ کو یہاں ورلڈ کپ کے میچ میں نیوزی لینڈ اور جنوبی افریقہ کا ٹکراؤ ہوگا تو دونوں ایک دوسرے پر سبقت بنانے کی کوشش کریں گے تاکہ سیمی فائنلز میں پرعزم ہوکر داخل ہوسکے۔ رواں ورلڈ کپ میں زیادہ تر یکطرفہ مقابلے ہوئے ہیں لیکن اگر دونوں ٹیموں کے گزشتہ مقابلے دیکھیں تو ایک یقینی طور پر جنوبی افریقہ کی چنئی میں پاکستان کے خلاف ایک وکٹ سے جیت تھی اور نیوزی لینڈ نے آسٹریلیا کے خلاف 388 رنز کے سنسنی خیز تعاقب کو تقریباً پانچ رنزکی کمی سے ختم کیا تھا۔دونوں ٹیموں کے درمیان سیمی فائنل میں جگہ بنانے کے لیے مضبوطی کے ساتھ، کوئی بھی کرکٹ کے اچھے کھیل کی توقع کر سکتا ہے جہاں دونوں طرف کے بیٹرس سے میچ کا رنگ قائم کرنے کی امید کی جاتی ہے۔ نیوزی لینڈ کے لیے 6 میچوں میں 8 پوائنٹس ہیں اور دھرم شالہ میں مسلسل چار فتوحات کے بعد ایک نقصان رہا ۔ دوسری طرف اگر جنوبی افریقہ 6 میچوں میں10 پوائنٹس ہے اور اس مقابلے میں کامیابی کے بعد اس کے 12 پوائنٹس اسے تقریباً ہندوستان کے ساتھ آخری چار میں شامل کردے گا ، لہذا، یہ لیگ مرحلے کا سب سے زیادہ اہم مقابلہ ہوگا اور پاکستان جیسی ٹیم اگر نیوزی لینڈ کو شکست کی ہیٹ ٹرک کا سامنا کرنا پڑتا ہے تو اسے کوئی اعتراض نہیں ہوگا۔ دونوں ٹیموں نے زیادہ تر مقابلوں میں متاثر کن بیٹنگ کا مظاہرہ کیا ہے لیکن مہاراشٹر کرکٹ اسوسی ایشن گراؤنڈ کا ٹریک قطعی طور پر بہتر نہیں رہا ہے جس میں اسپنرزکو کافی مدد مل رہی ہے جیسا کہ افغانستان کے اسپنرز نے سری لنکا کے خلاف اپنے سات وکٹوں کی کامیابی میں کیا تھا۔ مقابلے کا سب سے دلچسپ پہلو دونوں طرف سے بیٹرس ہے جو اب تک ان کی کامیابی کی وجہ رہے ہیں۔کوئنٹن ڈی کاک (431 رنز)، اب تک تین سنچریوں کے ساتھ سب سے آگے ہیں اور وہ ونڈے پلیٹ فارم کو بلندی پر چھوڑنے کے لیے پرعزم ہوں گے۔ اگر ڈی کاک نے اپنی طاقت اور ٹائمنگ کے کھیل سے حریف کے منصوبوں کو ختم کردیا ہے، تو دوسری طرف نوجوان رچن رویندرا (406 رنز)، سچن تنڈولکر کے زیادہ مزاج اور راہول ڈریوڈ کی تھوڑی سی ہمت کے ساتھ، عالمی سطح پر آگ لگا رہا ہے۔ بائیں ہاتھ کے کھلاڑی نے نیوزی لینڈ کرکٹ کی اگلی بیٹنگ سنسنی کے طور پر اپنی آمد کا اعلان کیا ہے اور جس انداز میں وہ فضائی شاٹس کھیلتے ہیں وہ ایک نئی کامیابی ہے۔ بائیں ہاتھ کی آرتھوڈوکس بولنگ اسے ایک مکمل پیکیج بناتی ہے۔ ہینرک کلاسن (300 رنز) جنوبی افریقہ کے لیے پاور ہٹ کم فنشر ہیں، تو نیوزی لینڈ کا میچ جمی نیشم سے ہے، جنہوں نے دھرم شالہ میں تقریباً ایک ناممکن میچ بنادیا تھا۔ اگر ڈیوڈ ملر کی بریٹ پاور پروٹیز کو ایکس فیکٹر دیتی ہے تو ڈیرل مچل کی (322 رنز) مقابلے کو گہرائی میں لے جانے کی صلاحیت ٹیم کے لیے ایک فائدہ ہے۔