نیوزی لینڈ میں مہلک اور خودکار ہتھیاروں کے استعمال پر امتناع

   

وزیراعظم جسنڈا آرڈن کے بروقت اقدامات کی ستائش
امریکہ میں مہلک ہتھیاروں کے استعمال پر پابندی کے مطالبہ میں شدت

واشنگٹن ۔ 21 مارچ (سیاست ڈاٹ کام) نیوزی لینڈ نے جمعرات کو ملک میں مہلک ہتھیاروں کے استعمال پر امتناع عائد کردیا جو دراصل گذشتہ جمعہ کرائسٹ چرچ کی دو مساجد میں ہوئے دہشت گرد حملوں میں شہید ہوئے 50 مسلمانوں کی شہادت کا نتیجہ ہے ملک کی وزیراعظم جسنڈا آرڈن نے اپنے اس وعدہ کو پورا کر دکھایا کہ ملک میں اب مہلک ہتھیاروں کے قانون کو سخت بنایا جائے گا۔ سب سے پہلے تو نیوزی لینڈ میں پیدا ہوئی اس پیچیدہ صورتحال کو انتہائی سنجیدگی اور بالغ نظری سے سلجھانے پر ان کی ہر جگہ تعریفیں ہورہی ہیں اور یہ کہا جارہا ہیکہ سیاسی قیادت کیا ہوتی ہے یہ جسنڈا آرڈن سے سیکھنے کی ضرورت ہے۔ ان کے اس تازہ ترین اقدام کے مؤثر ہونے کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہیکہ امریکہ جیسے سوپر پاور ملک میں بھی مہلک ہتھیاروں کے استعمال پر پابندی عائد کرنے کا مطالبہ ایک بار پھر زور پکڑ گیا۔ ویسے امریکہ میں عرصہ دراز سے یہ مطالبہ کیا جارہا ہے کیونکہ وہاں اکثر اسکولی بچے بھی فائرنگ کے واقعات میں ملوث ہوچکے ہیں جس کیلئے امریکہ کا ’’گن کلچر ‘‘بہت بدنام ہے۔ دریں اثناء جسنڈا آرڈن نے کہا کہ اسالٹ رائفلز اور فوجی طرز کی خودکار (آٹومیٹک) ہتھیاروں کے استعمال پر فوری اثر کے ساتھ امتناع عائد کیا جارہا ہے (نیوزی لینڈ کی فوج پر یہ امتناع عائد نہیں ہوا ہے) بلکہ ان رائفلز پر ہوا ہے جو فوجیوں کے زیراستعمال خودکار رائفلز سے مماثلت رکھتی ہیں۔ قتل عام واقعہ نے نیوزی لینڈ کی حکومت اور عوام کو یہ سوچنے پر مجبور کردیا کہ اب وقت آ گیا ہیکہ ایسے ہتھیاروں پر پابندی عائد کردی جائے اور اس طرح قانون میں ترمیم کی گئی ہے۔ یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہیکہ اس پابندی سے نیوزی لینڈ کے علاوہ دوسرے ممالک بھی کوئی سبق حاصل کریں گے؟ امریکہ جیسے ملک میں گن کلچر کو لیکر سیاسی نظریات منقسم ہیں۔ بہرحال جہاں تک نیوزی لینڈ کی وزیراعظم کا سوال ہے تو وہ اپنے عزائم پر عمل کرنے میں تاخیر نہیں کریں گی۔ انہوں نے واضح طور پر کہا ہیکہ مساجد پر حملہ کیلئے جس نوعیت کے ہتھیاروں کا استعمال کیا گیا ہے ان تمام ہتھیاروں کے استعمال پر پابندی عائد کردی جائے گی۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ رائفلز سے تیز ترین رفتار میں فائرنگ کرنے کیلئے جن میگزینس اور دیگر آلات کا استعمال ہوتا ہے، ان پر بھی فوری اثر کے ساتھ پابندی عائد کردی جائے گی۔ جسنڈا آرڈن کے اقدامات کی تعریف کرتے ہوئے امریکہ میں 2020ء صدارتی انتخابات کے امیدوار برنی سینڈرس نے ٹوئیٹ کرتے ہوئے کہا کہ اگر گن کلچر کو روکنا ہے تو یہ اقدامات بالکل بروقت ہیں۔ اسے کہتے ہیں بروقت عمل آوری جس کیلئے میں جسنڈا آرڈن کومبارکباد دیتا ہوں۔ امریکہ کو بھی نیوزی لینڈ کے نقش قدم پر چلنے کی ضرورت ہے۔ امریکہ کے سینڈی ہک ایلیمنٹری اسکول میں 2012ء میں کی گئی فائرنگ کا واقعہ دنیا ابھی فراموش نہیں کرسکی ہے لیکن اس کے باوجود بھی مہلک ہتھیاروں پر کوئی پابندی عائد نہیں کی گئی۔