نیوزی لینڈ میں ناقابلِ علاج مریضوں کو خودکشی کے حق کی حمایت

   

تفریح کیلئے بھنگ پینے کو قانونی قرار دینے عوام کی اکثریت خلاف
ریفرنڈم کا 6 نومبر کو نتیجہ

آکلینڈ:نیوزی لینڈ کے عوام کی اکثریت نے یوتھنیزیا کو قانونی قرار دینے کے حق میں ووٹ دیا ہے جب کہ تفریح کی غرض سے بھنگ پینے کو قانونی قرار دینے کی مخالفت کی ہے۔نیوزی لینڈ میں 17 اکتوبر کو دو متنازع مسائل پر عوامی رائے کے لیے ریفرنڈم کا انعقاد کیا گیا۔نیوزی لینڈ کے الیکٹورل کمیشن نے جمعہ کوریفرنڈم کے ابتدائی نتائج کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ ریفرنڈم میں عوام کی اکثریت نے یوتھنیزیا (ڈاکٹروں کی جانب سے ناقابلِ علاج مرض میں قریب المرگ افراد کی طبی عملے کی مدد سے خودکشی) کے حق میں ووٹ دیا ہے۔الیکٹورل کمیشن کے مطابق اب تک بیرونِ ملک سے آنے والے پانچ لاکھ کے قریب ووٹ گننا باقی ہیں۔ تاہم ان ووٹوں کی تعداد اتنی نہیں ہے کہ یوتھنیزیا کے خلاف فیصلہ کیاجائے.کمیشن کا کہنا ہے کہ بیرونِ ملک سے آنے والے ووٹ تفریحی طور پر بھنگ کے قانونی بنانے کے خلاف فیصلے پر اثر انداز ہو سکتے ہیں۔کینیڈا کے صوبے کیوبک میں صبح سویرے بھنگ خریدنے والوں کا ہجوم اسٹور کھلنے کا انتظار کرتا ہے۔ اب تک 65 اعشاریہ دو فی صد افراد نے یوتھنیزیا کو قانونی قرار دینے کے حق میں ووٹ دیا ہے۔ کمیشن کے مطابق ریفرنڈم کے حتمی نتائج چھ نومبر کو شائع کیے جائیں گے۔نیوزی لینڈ ‘یوتھنیزیا’ کو قانونی قرار دینے والا دنیا کا ساتواں ملک بن جائے گا۔اس قانون کے تحت وہ ناقابلِ علاج مریض جن کے پاس چھ ماہ سے بھی کم وقت بچا ہوگا وہ طبی عملے کی مدد سے خودکشی کی درخواست دے سکتے ہیں۔ایسی درخواست 18 برس سے بڑی عمر کے افراد دے سکتے ہیں اور اس کے لیے دو ڈاکٹروں کی رضامندی درکار ہو گی۔نیوزی لینڈ میں یہ قانون نومبر 2021 سے لاگو ہو گا۔یاد رہے کہ نیوزی لینڈ میں یوتھنیزیا کی بحث لیکریٹیا سیلز نامی وکیل نے شروع کی تھی۔دماغ کے کینسر میں مبتلا لیکریٹیا نے عدالت سے درخواست کی تھی کہ انہیں مرضی سے مرنے کا حق دیا جائے۔ عدالت نے 2015 میں ان کی درخواست مسترد کر دی تھی اور اسی روز ان کا انتقال ہو گیا تھا۔