l آخری مریض بھی ہاسپٹل سے ڈسچارج
l وزیراعظم کا اپنے کمرے میں خوشی سے رقص اور بعدازاں ٹی وی پر خطاب
ویلنگٹن ۔ 8 جون (سیاست ڈاٹ کام) نیوزی لینڈ کی وزیر اعظم جیسنڈا آرڈرن نے کورونا وائرس کے خلاف فتح کا اعلان کرتے ہوئے مقامی سطح پر کورونا کے سلسلے میں عائد تمام تر پابندیاں ہٹانے کا اعلان کردیا ہے۔ نیوزی لینڈ میں کورونا کے آخری مریض کو بھی ہاسپٹل سے ڈسچارج کردیا گیا ہے اور جیسنڈا کے مطابق جب انہیں سنگ میل کے بارے میں پتہ چلا تو وہ خوشی سے اپنے کمرے میں رقص کرنے لگیں۔نیوزی لینڈ میں سرحد پر سختی اور بندشیں برقرار رہیں گی لیکن سماجی فاصلے اور عوامی اجتماعات پر عائد پابندیاں ہٹالی گئی ہیں۔ وزیر اعظم نے ٹی وی پر عوام سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہم پراعتماد ہیں کہ ہم نے نیوزی لینڈ میں وائرس کی منتقلی کے عمل کو ختم کردیا ہے اور کیویز وائرس کو کچلنے کیلئے غیرمعمولی انداز میں متحد ہو گئے تھے۔50لاکھ آبادی کے حامل ملک نیوزی لینڈ میں ایک ہزار 154 افراد میں وائرس کی تصدیق ہوئی تھی اور 22افراد ہلاک ہو گئے تھے۔نیوزی لینڈ میں 17دن سے کوئی بھی شخص وائرس سے متاثر نہیں ہوا اور پیر تک صرف ایک فعال کیس تھا جسے ہاسپٹل سے آج فارغ کردیا گیا۔ ہاسپٹل سے فارغ کیے گئے آخری مریض کی تفصیلات پرائیویسی کی وجہ سے جاری نہیں کی گئیں لیکن یہ مانا جا رہا ہیکہ وہ ایک خاتون تھیں جن کی عمر تقریباً 50سال تھی۔آرڈرن نے کہا کہ 7 ہفتے کے سخت لاک ڈاؤن سمیت نیوزی لینڈ کے عوام کی جانب سے دی گئی قربانیوں کی بدولت وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے میں مدد ملی اور اس کا صلہ یہ ملا ہیکہ ملک میں کورونا کا کوئی بھی فعال کیس نہیں ہے۔انہوں نے بتایا کہ جب انہیں ملک کے وائرس سے مکمل طور پر پاک ہونے کی خبر ملی تو میں نے اپنی بیٹی کے ہمراہ کمرے میں رقص کیا اور وہ بھی رقص میں میرے ساتھ شریک ہو گئی حالانکہ اسے بالکل علم نہیں تھا کہ میں کیوں ڈانس کر رہی ہوں۔نیوزی لینڈ اب وائرس سے نمٹنے کیلئے پہلے درجے کے لاک ڈاؤن پر واپس آ گیا ہے جو سب سے کمتر درجہ ہے اور اس میں نائٹ کلب بھی کھولنے کی اجازت ہو گی جبکہ تھیٹر بھی دوبارہ کھل سکیں گے۔اس کے ساتھ ساتھ نیوزی لینڈ میں کھیلوں کے مقابلے بھی عوام کی موجودگی میں کرانے کا اعلان کیا گیا ہے جہاں سب سے پہلے اس بات کی پیشکش نیوزی لینڈ رگبی نے کی تھی جس کے مقابلے اس ہفتے کے آخر میں شروع ہوں گے۔نیوزی لینڈ رگبی کے چیف ایگزیکٹو مارک رابنسن نے کہا کہ ہم اس بات پر شکر اور انتہائی فخر محسوس کرتے ہیں کہ ہم دنیا کا پہلا پیشہ ورانہ کھیل بننے جا رہے ہیں جس کی ٹیمیں اپنے شائقین کے سامنے کھیل سکیں گی۔دنیا میں بڑے پیمانے پر کھیلوں کے مقابلے دوبارہ شروع کرنے کا اعلان کیا گیا ہے لیکن اس میں سے اکثر مقابلے یا شائقین کے بغیر منعقد ہوں یا پھر ان میں شائقین کی تعداد انتہائی محدود رکھی جائے گی۔
جیسنڈا آرڈرن نے کہا کہ پابندیاں ختم کرنے سے نیوزی لینڈ کی مشعیشت کو سنبھلنے میں مدد ملے گی جو لاک ڈاؤن کے دوران انتہائی متاثر ہوئی۔ان کا کہنا تھا کہ اب ہمیں معاشی بحالی کا سفر طے کرنا ہے کیونکہ مہ دنیا کے ان چند معیشتوں میں سے ہیں جنہوں نے اپنے کاروبار کے اکثر حصے کو کھولنے کی اجازت دے دی ہے۔واضح رہے کہ نیوزی لینڈ کے برعکس دنیا کے اکیثر ممالک خصوصاً امریکا اور جنوبی ایشیائی ممالک میں وائرس تیزی سے پھیل رہا ہے۔دنیا بھر میں اب تک 70لاکھ سے زائد افراد وائرس سے متاثر ہو چکے ہیں اور مرنے والوں کی تعداد بھی 4لاکھ سے تجاوز کر گئی ہے۔اب تک سب سے زیادہ ایک لاکھ 10ہزار سے زائد اموات امریکا میں ہوئی ہیں جبکہ تقریباً 20لاکھ متاثر بھی ہو چکے ہیں۔اس کے علاوہ دیگر متاثرہ ممالک میں برازیل، برطانیہ، روس، اٹلی اور اسپین سرفہرست ہیں جہاں ہزاروں افراد ہلاک اور لاکھوں متاثر ہو چکے ہیں۔