صحافیوں اور جہدکاروں کی شرکت، عامر علی خاں، سرینواس ریڈی، جسوین جیرتھ نے مذمت کی
حیدرآباد 5 اکٹوبر (سیاست نیوز) نئی دہلی میں نیوز کلک کے دفتر اور اُس سے وابستہ صحافیوں کی قیامگاہوں پر پولیس دھاوؤں اور گرفتاری کی مذمت کرتے ہوئے حیدرآباد میں صحافیوں اور جہدکاروں نے احتجاج منظم کیا۔ بشیر باغ پریس کلب سے ریالی منظم کی گئی جو مجسمہ امبیڈکر ٹینک بینڈ پہونچ کر اختتام پذیر ہوئی۔ ریالی میں صحافیوں کی تنظیموں کے قائدین کے علاوہ عثمانیہ یونیورسٹی کے ریٹائرڈ پروفیسرس، جہدکاروں اور کسانوں کی تنظیموں کے نمائندوں نے شرکت کی۔ سینکڑوں کی تعداد میں احتجاجیوں نے نئی دہلی میں صحافیوں اور جہدکاروں کے خلاف کی گئی کارروائیوں کی مذمت کرتے ہوئے نعرہ بازی کی۔ جمہوریت بچاؤ، صحافت بچاؤ کے نعرے لگائے گئے اور دہلی پولیس کی کارروائی کی مذمت کی گئی۔ انڈین جرنلسٹ یونین کے صدر کے سرینواس ریڈی، نیوز ایڈیٹر روزنامہ سیاست جناب عامر علی خاں، جہدکار جسوین جیرتھ، ماہر ماحولیات عمران صدیقی کے علاوہ تلنگانہ ورکنگ جرنلسٹ یونین اور دیگر تنظیموں کے عہدیداروں نے احتجاج میں حصہ لیا۔ مختلف اخبارات اور الیکٹرانک میڈیا سے تعلق رکھنے والے سینکڑوں صحافیوں نے مطالبہ کیاکہ ملک میں صحافیوں اور جہدکاروں کے خلاف کارروائیوں کو فوری بند کیا جائے۔ سرینواس ریڈی نے کہاکہ حالیہ برسوں میں ملک میں آزادانہ صحافت کو کچلنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ نیوز کلک سے وابستہ صحافیوں اور جہدکاروں پر ملک دشمنی جیسے الزامات عائد کرنا افسوسناک ہے۔ جہدکار جسوین جیرتھ نے کہاکہ سچائی بیان کرنے والوں کو حکومت ہراساں کرتے ہوئے نشانہ بنارہی ہے۔ اُنھوں نے کہاکہ چین کی جانب سے ہندوستانی زمین پر قبضے پر حکومت نے کوئی کارروائی نہیں کی۔ اِس کے علاوہ چین کی کمپنیوں نے وزیراعظم کے دوست اڈانی کے کاروبار میں کروڑہا روپئے کی سرمایہ کاری کی اُس وقت بھی حکومت خاموش رہی لیکن صحافیوں کے معاملے میں چین سے رقومات حاصل کرنے کا الزام عائد کرتے ہوئے کارروائی کی جارہی ہے۔ ماحولیات کے جہدکار عمران صدیقی نے صحافیوں کے خلاف کارروائیوں کی مذمت کی اور احتجاج سے اظہار یگانگت کیا۔ نئی دہلی میں کئی نامور صحافیوں اور جہدکاروں کے خلاف یو اے پی اے قانون کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ہے۔ ملک کے مختلف شہروں میں صحافیوں کی تنظیموں نے دہلی پولیس کی کارروائی کی مذمت کی۔