نیوکلیئرمعاہدہ ، مذاکرات غیرمعینہ مدت تک جاری رہنا مشکل

   

واشنگٹن : امریکی وزیر خارجہ انٹونی بلنکن نے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ 2015ء میں ہوئے نیوکلیئرمعاہدہ کو بحال رکھنے کے لیے مذاکرات ’’غیر معینہ مدت تک جاری نہیں رہ سکتے‘‘۔ انہوں نے اس بات کا عندیہ دیا کہ ایران کو چاہیے کہ وہ فوری طور پر اس معاملے میں پیش رفت دکھائے۔بلنکن نے یہ بات جمعرات کے روز کویت میں اپنے کویتی ہم منصب شیخ احمد ناصر محمد الصباح کے ساتھ اخباری کانفرنس کے دوران کہی۔ اعلیٰ ترین امریکی سفارت کار نے کہا کہ بائیڈن انتظامیہ بات چیت جاری رکھنا چاہتی ہے، لیکن اب ایران کو فیصلہ کرنے کی ضرورت ہے۔جنوری میں جب سے جو بائیڈن نے امریکی صدر کا عہدہ سنبھالا ہے، دونوں فریقوں نے ویانا میں بالواسطہ مذاکرات کے کئی دور کیے ہیں۔ ان مذاکرات میں ایران پر زور دیا گیا تھا کہ وہ بین الاقوامی سمجھوتے کی پاسداری یقینی بنائے جس میں پابندیوں میں نرمی کے عوض ایران کے نیوکلیئر پروگرام کو محدود کیا گیا تھا۔سال 2018ء میں امریکہ اس معاہدے سے علیحدہ ہو گیا تھا، جسے باضابطہ طور پر ‘جوائنٹ کمپری ہنسو پلان آف ایکشن (جے سی پی او اے)’ کا نام دیا گیا تھا۔ اس وقت سے اب تک ایران نے اپنے اوپر لگائی گئی پابندیوں کے خلاف کئی اقدامات کیے ہیں، جن میں یورینئم کی افزودگی کا درجہ بڑھانا اور افزودہ نیوکلیئرمواد کا اجازت سے بڑھ کر ذخیرہ کرنا شامل ہے۔بلنکن کے بقول، اگر ایران اپنے نیوکلیئر پروگرام سے متعلق اپنی غیر ذمہ دارانہ سرگرمیاں جاری رکھتا ہے، تو پھر معاہدے کا کوئی فائدہ نہیں، نہ ہی ‘جے سی پی او اے’ کی بحالی ممکن ہو گی۔امریکہ، برطانیہ، چین، فرانس، جرمنی اور روس نے اس تشویش کو مد نظر رکھتے ہوئے ایرانی نیوکلیئر سرگرمیوں کو محدود کرنے کا اقدام کیا تھا، تاکہ ایران کو نیوکلیئرہتھیار بنانے سے روکا جائے۔ ایران کہتا ہے کہ اس کا نیوکلیئرپروگرام پرامن مقاصد کے لیے ہے۔