نیوکلیئر بات چیت کے دوبارہ آغاز کا معاملہ امریکہ پر منحصر: ایران

   

جوبائیڈن کے صدر بننے کے بعد امریکہ اور ایران کے درمیان خوشگوار تعلقات کیلئے ایک اور موقع

تہران: اقوام متحدہ میں ایران کے سفیر مجید تخت روانچی کا کہنا ہے کہ ایران اور امریکہ کے درمیان تعلقات کے معاملے میں ہر چیز بائیڈن انتظامیہ پر منحصر ہے۔امریکی چینل “NBC” نیوز کے ساتھ انٹرویو میں جب روانچی سے پوچھا گیا کہ ایران نیوکلیئر بات چیت کو دوبارہ شروع کرنے کے لیے کیا ارادہ رکھتا ہے تو ایرانی عہدیدار نے اعلانیہ طور پر کہا کہ ’’گیند اب امریکہ کے کورٹ میں ہے‘‘۔اس سے قبل امریکی مرکزی کمان کے کمانڈر جنرل فرینک میکنزی نے باور کرا چکے ہیں کہ جو بائیڈن کے صدر بننے کے بعد امریکہ اور ایران کے درمیان تعلقات کے لیے ایک نیا موقع ہے۔ میکنزی کا یہ بیان نئی امریکی انتظامیہ کے سائے میں خطے کے پہلے دورے کے دوران سامنے آیا۔امریکی جنرل نے دو روز قبل صحافیوں سے گفتگو میں کہا تھا کہ بائیڈن کے انتخاب سے قبل گزرے مہینوں کے دوران ایران کی جانب سے بڑھتے خطرات کے باوجود امریکہ کسی بھی غیر متوقع لمحے کا مقابلہ کرنے کے واسطے جنگ کو روکے رکھنے میں کامیاب رہا۔ بعض سیکورٹی اور عسکری تجزیہ کاروں کو اندیشہ تھا کہ تہران سابق صد ڈونالڈ ٹرمپ کی صدارت کے آخری دنوں میں کسی بھی امریکی ہدف کو براہ راست نشانہ بنا سکتا ہے۔ تاہم امریکہ اس سے اجتناب میں کامیاب ہو گیا۔جنرل میکنزی کے مطابق ایران خطے میں عراق اور دیگر مقامات پر اپنے ایجنٹوں کو چلانے پر بڑی حد تک قادر تھا تاہم اس نے اپنے پیروکاروں کو آگاہ کر دیا کہ یہ امریکہ کے ساتھ جنگ چھیڑنے کا مناسب وقت نہیں۔واضح رہے کہ ایران نے 2015ء میں چھ بڑے ممالک (چین، امریکہ، روس، فرانس، برطانیہ اور جرمنی) کے ساتھ اپنے نیوکلیئر پروگرام کے حوالے سے ایک سمجھوتے پر دستخط کیے تھے۔ اس کو “مشترکہ جامع عملی منصوبے” کا نام دیا گیا تھا۔ویانا میں طے پانے والے اس معاہدے کے تحت تہران پر عائد بین الاقوامی پابندیاں اٹھائی جانی تھیں اور اس کے مقابل ایران کو اپنے نیوکلیئر پروگرام پر بڑی حد تک روک لگانا تھی۔ ساتھ ہی اس بات کی ضمانت دینا تھی کہ وہ نیوکلیئر ہتھیار کے حصول کے لیے کوشاں نہیں۔